پیٹر تھیل: ڈیجیٹل سلطنت کا وہ معمار، جس کے قبضے میں برطانیہ کا ایٹمی نظام اور امریکی ڈیٹا ہے

عالمی ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک پراسرار نام پیٹر تھیل اس وقت بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی کمپنی پالنٹیر دنیا بھر کی حکومتوں، دفاعی نظاموں اور ایٹمی اثاثوں پر اثر و رسوخ حاصل کر چکی ہے۔
پیٹر تھیل، جنہیں اکثر موت کی سلطنت کا معمار کہا جاتا ہے، اس وقت عالمی سیاست اور دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک خوفناک طاقت بن کر ابھرے ہیں۔
ان کی کمپنی پالنٹیر اس وقت برطانیہ کے ایٹمی ہتھیاروں کے نظام، صحت کے قومی ادارے (این ایچ ایس) کے ڈیٹا اور پولیس کے خفیہ ڈیٹا بیس کو کنٹرول کر رہی ہے۔
پیٹر تھیل کی زندگی کے حوالے سے کئی حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ متنازع ان کا نوجوانوں کے خون کے عطیات (پیرا بائیوسس) پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ ہر تین ماہ بعد 18 سالہ نوجوانوں کے خون کی منتقلی پر 40 ہزار ڈالرز خرچ کرتے ہیں، حالانکہ انہوں نے ایک کانفرنس میں مذاقاً کہا تھا کہ وہ ویمپائر نہیں ہیں۔
ان کے مالیاتی تعلقات بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین سے بھی رہے ہیں، جس نے تھیل کے فنڈز میں 40 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جو اب بڑھ کر 170 ملین ڈالرز ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ کا آبنائے ہرمز کیلئے نیا اتحاد بنانے کا فیصلہ، امریکی ناکہ بندی کا حصہ بننے سے انکار
دفاعی میدان میں، پیٹر تھیل کی کمپنی نے اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ کی جنگ میں مصنوعی ذہانت اور چہروں کی شناخت کا نظام فراہم کیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں کڑی تنقید کر رہی ہیں۔
ایران کے خلاف ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں بھی پالنٹیر کا میون اسمارٹ سسٹم استعمال ہو رہا ہے، جو پینٹاگون کا باقاعدہ پروگرام بن چکا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے تھیل کی کمپنی کے حصص میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے وہ جنگی منافع خوروں کی فہرست میں سرفہرست آگئے ہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات پالنٹیر کے وہ نئے پیٹنٹ ہیں، جن کے مطابق ایسا خودکار نظام تیار کیا گیا ہے، جو ہدف کو تلاش کرنے اور اسے تباہ کرنے کا فیصلہ خود کرے گا، جبکہ انسان کا کردار صرف تصدیقی بٹن دبانے تک محدود ہوگا۔
مزید برآں، یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ کمپنی کے پاس ڈونلڈ ٹرمپ، جے ڈی وینس اور ایلون مسک کی ہزاروں گھنٹوں پر محیط خفیہ اور قابلِ تلاش گفتگو کا ریکارڈ موجود ہے، جو اسے وائٹ ہاؤس پر غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔
پیٹر تھیل مصنوعی ذہانت کی ریگولیشن کو دجال کی آمد سے تعبیر کرتے ہیں اور اسی نظریے کے تحت وہ پوری دنیا میں نگرانی اور جنگی ڈرونز کا جال بچھا رہے ہیں۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












