کیا ایران کی جنگ ترکیہ کو دوبارہ سلطنتِ عثمانیہ کی طرح طاقتور بنا دے گی؟

دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق ایران کی موجودہ جنگ ترکیہ کو ایک بار پھر وہی طاقت فراہم کر رہی ہے، جو کبھی سلطنتِ عثمانیہ کے پاس تھی۔
تاریخی طور پر سلطنتِ عثمانیہ نے صرف فتوحات سے نہیں بلکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی راستوں پر کنٹرول کے ذریعے دنیا پر حکمرانی کی تھی۔ آج ایران کی جنگ نے ایک بار پھر ترکیہ کو اسی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے، اس وقت غیر محفوظ ہو چکا ہے اور دنیا متبادل راستوں کی تلاش میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات معاشی شراکت داری میں بدل رہے ہیں، وزیراعظم
اس صورتحال میں ترکیہ تین بڑے منصوبوں کے مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے، جن میں ترکمانستان کی گیس، عراق کا پائپ لائن نیٹ ورک اور قطر کی گیس کی بذریعہ زمین یورپ منتقلی شامل ہے۔
اگر یہ راستے مکمل ہو جاتے ہیں تو خلیج سے یورپ جانے والی توانائی کا بڑا حصہ ترک سرزمین سے گزرے گا۔ ترکیہ نہ صرف تجارتی راستوں بلکہ اپنی بحری طاقت کو بھی تیزی سے بڑھا رہا ہے۔
اس وقت ترکیہ کے مختلف یارڈز میں 41 جنگی جہازوں کی بیک وقت تعمیر جاری ہے، جبکہ حال ہی میں 120 جنگی جہازوں اور 15 ہزار اہلکاروں نے بلیو ہوم لینڈ 2026 نامی مشقوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
بحیرہ روم میں گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت نے ترکیہ، مصر اور اسرائیل کے درمیان مسابقت بڑھا دی ہے، لیکن اپنی بحری قوت اور جغرافیائی اہمیت کی بدولت ترکیہ اس پوزیشن میں آ رہا ہے کہ وہ مستقبل میں یہ طے کرے گا کہ کون سی چیز، کہاں اور کن شرائط پر فروخت ہوگی۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












