ایران کی میزائل طاقت میں اضافہ اور یورپ کا دفاعی اضطراب

ڈیاگو گارسیا پر حالیہ میزائل حملے نے نہ صرف ایران کی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی صلاحیت کو ثابت کر دیا ہے بلکہ وسطی اور مشرقی یورپ کے لیے بھی خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی ہے۔
عالمی دفاعی منظرنامے پر ایک نئی اور خطرناک لہر اس وقت نمودار ہوئی، جب 20 مارچ کو ایران کی جانب سے ڈیاگو گارسیا میں واقع برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ فوجی اڈے پر دو بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
اگرچہ تہران نے سرکاری طور پر ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، تاہم برطانوی حکومت نے اس واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے حالیہ بیان نے اس تشویش کو مزید تقویت دی ہے، جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران اب چار ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا حامل بن چکا ہے۔
اس نئی صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ اب وسطی اور مشرقی یورپ کے اہم علاقے ایرانی میزائلوں کے نشانے پر آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران تنازعہ اور ایندھن کی قیمتیں، مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چین کا پلہ بھاری ہو گیا
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کافی عرصے سے ایسی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا تھا، جو اسے دو ہزار کلومیٹر کی روایتی حد سے آگے نکلنے میں مدد دے سکیں۔
خرم شہر میزائل، جس کی سرکاری حد دو ہزار کلومیٹر اور وزنی وار ہیڈ اٹھارہ سو کلوگرام بتایا جاتا ہے، ہلکے وار ہیڈ کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ فاصلے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈیاگو گارسیا پر کیا گیا حملہ ایک دو مرحلہ وار بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے ذریعے کیا گیا، جو کہ خرم شہر جیسے یک مرحلہ وار نظام سے کہیں زیادہ جدید اور پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان میں سے ایک میزائل پرواز کے دوران تکنیکی خرابی کا شکار ہوا جبکہ دوسرے کو دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔
اس حملے کا علامتی پیغام اس کے عسکری اثرات سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ چار ہزار کلومیٹر کی حد تک رسائی کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف خلیج فارس میں موجود امریکی اڈے ہی نہیں بلکہ پولینڈ اور رومانیہ میں واقع مغربی ممالک کے کلیدی لاجسٹک مراکز بھی ایرانی دسترس میں ہیں۔
اس ابھرتے ہوئے خطرے کے پیش نظر جرمنی نے پہلے ہی اسرائیل سے ‘ایرو تھری’ نامی جدید میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ اپنی فضائی حدود کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ایران کی یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اس نے خطے کی جنگی صورتحال میں اپنی تزویراتی گہرائی کو عالمی سطح تک پھیلا دیا ہے، جس نے یورپی ممالک کو اپنے دفاعی حصار پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










