ترکیہ کا تزویراتی کھیل اور مغربی افراتفری سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی

عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ترکیہ نے خود کو ایک ایسی کلیدی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں وہ ایک طرف نیٹو کا اہم ستون ہے تو دوسری طرف مغربی طاقتوں کے خوف اور خطے کی جنگی صورتحال کو اپنے مفادات کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔
انقرہ اور برسلز کے درمیان تعلقات ایک نئی اور دلچسپ نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ جیسے جیسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں عالمی سطح پر بے یقینی پیدا کر رہی ہیں، یورپی رہنماؤں نے ترکیہ کو اپنا مضبوط سہارا بنانے کے لیے دوڑ لگا دی ہے۔
نو اپریل کو ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے یورپی یونین کے ساتھ عسکری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا، جو کہ انقرہ میں ہونے والے 2026 کے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ایک اہم پیش رفت ہے۔
ترکیہ 1952 سے نیٹو کا حصہ ہے، لیکن اسے کبھی یورپی یونین میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب ترک وزیر دفاع کا دعویٰ ہے کہ موجودہ عالمی نظام یوکرین کی جنگ، ایران جنگ کے پیدا کردہ مسائل اور نیٹو سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لہذا ترکیہ ہی وہ مرکزی اتحادی ہے، جو پورے یورپ کی حفاظت کر سکتا ہے۔
ترکیہ کی خارجہ پالیسی بظاہر پڑوسیوں کے ساتھ صفر مسائل اور توازن برقرار رکھنے پر مبنی نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں انقرہ نے خود کو مغربی بلاک کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ رکھا ہے۔
ترکیہ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کام کرتا ہے اور سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے ساتھ بھی رابطے میں ہے، لیکن اس کی عملی نقل و حرکت سے سب سے زیادہ نقصان روس اور ایران کو پہنچ رہا ہے، جو امریکی تسلط کے خلاف سب سے بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز، باب المندب اور عالمی معیشت، ترکیہ نے خود کو تزویراتی متبادل کو طور پر پیش کردیا
چار سالوں سے ترکیہ یوکرین کو ہتھیار فروخت کر رہا ہے، جبکہ روس کے ساتھ بھی کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے۔ شام میں اسد حکومت کے خاتمے اور وہاں سابق القاعدہ جنگجوؤں کی جگہ بنانے میں ترکیہ کا کردار نیٹو اور یورپی یونین کے اندر اس کے اثر و رسوخ میں اضافے کا سبب بنا ہے، مگر اس نے ان ریاستوں کو براہ راست کمزور کیا ہے، جو امریکی بالادستی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔
یورپی حکام اب مہاجرین کے مسئلے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بحیرہ اسود میں روسی جہازوں کی نگرانی کے لیے ترکیہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
برطانیہ اکتوبر 2025 سے ترکیہ کو بیس یورو فائٹر جیٹ طیارے فروخت کر رہا ہے، جسے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے نیٹو کی جیت قرار دیا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا بھی کہنا ہے کہ یوکرین اور ترکیہ کے بغیر یورپ روس کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔
ترکیہ کی ڈرون انڈسٹری اس کی عسکری طاقت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بائیکر کمپنی نے 2024 میں ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کے ڈرونز برآمد کیے ہیں۔ فن لینڈ سے بلغاریہ تک یورپ کی مجوزہ ڈرون دیوار کا انحصار بھی بڑی حد تک ترک پیداوار پر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ترکیہ ایک آزاد کثیر قطبی دنیا بنانے کے بجائے مغربی ممالک کے خوف کا فائدہ اٹھا کر خود کو مغربی نظام کے اندر مزید گہرائی تک پیوست کر رہا ہے، جو کہ عالمی سطح پر بالادستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی قوتوں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












