آبنائے ہرمز، باب المندب اور عالمی معیشت، ترکیہ نے خود کو تزویراتی متبادل کو طور پر پیش کردیا

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر گرفت مضبوط ہونے اور بحیرہ احمر کے غیر یقینی حالات نے جہاں عالمی معیشت کو بحران میں ڈالا ہے، وہیں ترکیہ اس افراتفری کو اپنے لیے ایک بڑے معاشی موقع میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انقرہ اس وقت دو اہم تجارتی راہداریوں کو فروغ دے رہا ہے، جن کا مقصد خلیجی توانائی اور اشیاء کی تجارت کو آبنائے ہرمز کے خطرناک راستے سے نکال کر زمین کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہے۔
ترکیہ کا پہلا بڑا منصوبہ ‘مڈل کوریڈور’ ہے، جو ایشیا اور یورپ کو ملانے والی ایک وسیع زمینی شہ رگ ہے۔ سابق ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کے مطابق یہ راہداری سالانہ تین ٹریلین ڈالر کی یورپ-ایشیا تجارت کا ایک بڑا حصہ سمیٹ سکتی ہے، جو اس وقت نوے فیصد بحری راستوں پر منحصر ہے۔
یہ منصوبہ جہاز رانی کے چالیس دن کے سفر کو محض بارہ سے پندرہ دن تک محدود کر دیتا ہے۔ گزشتہ جون سے جاری ایرانی تنازع کے بعد سے ترکیہ اس کوریڈور کو ایک مستحکم متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ عالمی توانائی اور مال برداری کو آبنائے ہرمز جیسے جغرافیائی خطرات سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : باب المندب، عالمی معیشت کی شہ رگ پر حوثیوں کی گرفت اور ممکنہ معاشی بحران
دوسرا اہم منصوبہ ‘ڈیولپمنٹ روڈ’ ہے، جس کی لاگت سترہ سے پچیس ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ اس منصوبے کے تحت عراق کی بصرہ بندرگاہ کو بارہ سو کلومیٹر طویل سڑک، ریلوے اور پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے ترکیہ اور یورپ سے جوڑا جائے گا۔
یہ منصوبہ خلیجی ریاستوں کو ایک ایسی گزرگاہ فراہم کرے گا، جہاں وہ آبنائے ہرمز اور حوثیوں کے زیرِ اثر بحیرہ احمر کو مکمل طور پر بائی پاس کر سکیں گی۔
اگرچہ ڈیولپمنٹ روڈ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن مڈل کوریڈور پر ترکیہ اور آذربائیجان میں کام تیزی سے جاری ہے اور اس کی صلاحیت کو پانچ ملین ٹن سے بڑھا کر بیس ملین ٹن کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
صدر طیب اردوان نے حال ہی میں ترکیہ کو جزیرہ استحکام اور محفوظ پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے بحران نے ترکیہ کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔
تاہم، تزویراتی ماہرین انقرہ کی اس پالیسی کو قبل از وقت اور کسی حد تک کوتاہ بینی پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کے بعد اب بعض اسرائیلی حکام ترکیہ کو نیا ایران قرار دے رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں اگلا ہدف خود ترکیہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس تناظر میں ترکیہ کی یہ معاشی مہم جوئی، جہاں اسے فائدہ پہنچا سکتی ہے، وہیں اسے عالمی طاقتوں کی اگلی صف بندی کے نشانے پر بھی لا سکتی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












