سابق امریکی صدر ولسن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں مماثلت، کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟

امریکی تاریخ کے دو مختلف ادوار کے صدور ووڈرو ولسن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے، جہاں امن کے نعروں کے باوجود امریکہ بڑی جنگوں اور صیہونی لابی کے زیرِ اثر رہا۔
امریکی تاریخ کے مطالعے سے یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ووڈرو ولسن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ادوار میں ایک ہی وعدے پر مہم چلائی، یعنی امریکہ کو غیر ملکی جنگوں سے دور رکھنا اور داخلی مفادات کو ترجیح دینا۔
ولسن نے 1916 کا الیکشن اس نعرے پر جیتا کہ اس نے ہمیں جنگ سے دور رکھا، لیکن چند ہی ماہ بعد امریکہ پہلی جنگِ عظیم میں کود پڑا۔
اسی طرح ٹرمپ کا امریکہ فرسٹ پیغام بھی غیر ملکی مداخلت ختم کرنے اور قومی مفاد کو ترجیح دینے پر مبنی تھا، یہاں تک کہ انہوں نے متعدد تنازعات حل کرنے کے بدلے نوبل امن انعام جیتنے کی بات بھی کی۔ تاہم، ایران اور امریکہ کی موجودہ جنگ کو دیکھ کر یہ مماثلت خوفناک حد تک واضح ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی سینیٹ میں ٹرمپ کے جنگی اختیارات روکنے کے لیے ایک اور ووٹنگ کا فیصلہ
ولسن انتظامیہ کے دوران لوئس برانڈیس، برنارڈ باروچ اور ہنری مورگینتھاؤ جیسی بااثر صیہونی شخصیات اہم عہدوں پر فائز تھیں، جنہوں نے جنگی پیداوار اور پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دوسری جانب ٹرمپ کے دور میں بھی جیرڈ کشنر، اسٹیو منوچن اور اسٹیفن ملر جیسے بااثر مشیروں نے اسرائیل کے مفادات کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا، جس کی مثال امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی اور ابراہم ایکارڈز ہیں۔
بالفور ڈیکلیریشن کی تاریخ بتاتی ہے کہ برطانیہ نے فلسطین میں یہودی وطن کی حمایت اس شرط پر کی تھی کہ امریکی یہودی لابی امریکہ کو برطانیہ کی طرف سے جنگ میں شامل کرائے گی۔
صیہونی رہنما چائم ویزمین نے 1941 میں چرچل سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی یہودیوں کے ذریعے امریکہ کو دوسری جنگِ عظیم میں لائیں گے اور انہوں نے فخریہ لکھا کہ ہم نے پہلی جنگ میں ایسا کیا اور ہم دوبارہ کر سکتے ہیں۔
آج جب جیرڈ کشنر جیسے لوگ مذاکرات کرتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مفادات کا یہ کھیل نیا نہیں بلکہ صدیوں پرانا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











