ایران کا امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے واشنگٹن پر دوغلے پن، سیز فائر معاہدوں کی خلاف ورزی اور غیر حقیقی مطالبات کا الزام عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اپنی ریڈ لائنز پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران ایران کی خارجہ پالیسی اور امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر تفصیلی مؤقف پیش کیا ہے۔
ترجمان نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے، کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل تضادات اور غیر سنجیدگی کا شکار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک طرف سفارتی حل کی بات کرتا ہے، لیکن دوسری طرف جنگ بندی کے معاہدوں کی پہلے ہی روز سے خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے ثالث ملک پاکستان کو بھی باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران تنازع میں پھنسی امریکی فوج غیر معیاری اور ڈبہ بند خوراک پر مجبور ہیں، کرسٹوفر ہلالی
ترجمان نے تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ اور صیہونی ریاست کو خطے میں عدم استحکام اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا اصل ذمہ دار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت سے قبل یہ خطہ مکمل طور پر پُرامن تھا، لہٰذا عالمی برادری کو اصل ذمہ دار فریق کا احتساب کرنا چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکی رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں جنگ بندی کو کسی معاہدے کا حصہ تسلیم نہیں کیا، جبکہ ایران نے اس حوالے سے پاکستانی ثالث کو تمام وضاحتیں فراہم کر دی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے امریکی منصوبے کے جواب میں اپنی متبادل تجویز پیش کی ہے اور وہ اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
جوہری پروگرام اور یورپی یونین کے خدشات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران کے جوہری ذخائر کی منتقلی کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہی اور نہ ہی یہ آپشن زیرِ غور ہے۔ ایران اپنی جوہری صلاحیت اور ذخائر کو ملک کے اندر ہی برقرار رکھنے پر قائم ہے۔
اسماعیل بقائی نے روس اور چین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایران مخالف قرارداد کو ویٹو کر کے عالمی قوانین کی پاسداری کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جارحیت کی تو ایران بھرپور ردعمل دے گا، تاہم تہران نے کشیدگی کم کرنے کی خاطر آبنائے ہرمز کو کھول کر اپنی نیک نیتی ثابت کر دی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











