اتوار، 26-اپریل،2026
اتوار 1447/11/09هـ (26-04-2026م)

حملہ آور ایک پاگل اور بیمار ذہن شخص ہے، اس کا تعلق ایران جنگ سے نہیں، امریکی صدر

26 اپریل, 2026 09:01

صدر ٹرمپ نے واقعے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور واضح کیا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں ان کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے عشایئے کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کی تمام تر تفصیلات خود میڈیا کے سامنے پیش کیں اور بتایا کہ آزادی اظہار رائے اور اتحاد کے لیے منعقد کی جانے والی اس تقریب کو ایک جنونی شخص نے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

ٹرمپ نے بتایا کہ ایک شخص متعدد ہتھیاروں سے لیس ہو کر سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ آور ہوا، جسے خفیہ سروس کے بہادر اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔

صدر نے اس حوالے سے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے زیر حراست ملزم کی تصویر اور سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ عوام اصل حقائق سے آگاہ ہو سکیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس افسوسناک واقعے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں خفیہ سروس کا ایک اہلکار انتہائی قریب سے گولی لگنے کے نتیجے میں زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ نے اس کی جان بچا لی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے زخمی اہلکار سے خود بات کرکے خیریت دریافت کی۔ اہلکار کے حوصلے بلند ہیں اور پوری قوم اس کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔

صدر نے سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک بڑے ہال کی تعمیر کی ضرورت گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے محسوس کی جا رہی تھی اور آج کا واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہمیں سیکیورٹی کے ایسے جدید اور سخت انتظامات کرنے ہوں گے، جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : وائٹ ہاؤس کی تقریب میں ٹرمپ کی موجودگی کے دوران فائرنگ، مسلح حملہ آور گرفتار

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی ریپبلکن رہنما یا ان کی ذات کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

انہوں نے پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں ہونے والے حملے اور پام بیچ میں گولف کھیلنے کے دوران پیش آنے والے خطرناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بھی دو بار موت کے منہ سے بچ کر نکلے ہیں۔

انہوں نے گرفتار ملزم کو ایک بیمار ذہن کا حامل شخص قرار دیا اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں اس قسم کے پرتشدد واقعات رونما ہوں۔

صدر نے تقریب کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ یہ عشائیہ اگلے تیس دنوں کے اندر دوبارہ منعقد کیا جائے گا جو پہلے سے کہیں زیادہ شاندار اور بڑا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کی تعریف کی اور بتایا کہ اس واقعے نے خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے لیے ایک انتہائی تکلیف دہ اور ذہنی صدمے والی صورتحال پیدا کر دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت جب انہیں وہاں سے جانے کا کہا گیا تو وہ جانے کے حق میں نہیں تھے اور وہاں رک کر مقابلہ کرنا چاہتے تھے، لیکن سیکیورٹی حکام کی ہدایت پر عمل کرنا ضروری تھا۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ اس رات ایک انتہائی سخت تقریر کرنے والے تھے، لیکن اب وہ اپنی اگلی تقریر کو کچھ نرم اور سادہ رکھیں گے۔

صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ شوٹر کا تعلق ایران جنگ سے ہے، ان پر حملوں کی وجہ شاید ان کا ملک کے لیے کیا گیا بڑا کام ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ ان لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جنہوں نے بڑا اثر و رسوخ قائم کیا ہو۔ انہوں نے ابراہم لنکن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بڑے نام ہمیشہ نشانے پر ہوتے ہیں۔

صدر نے واضح کیا کہ اس تقریب سے قبل انہیں کسی قسم کے خطرات کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور پچاس گز کے فاصلے سے حملہ آور ہوا لیکن سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے فوراً دبوچ لیا۔

کیلیفورنیا میں ملزم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ صدر کا ماننا ہے کہ یہ کسی گروہ کا کام نہیں بلکہ ایک جنونی شخص کی انفرادی کارروائی ہے۔ انہوں نے ملک میں ہر قسم کے تشدد کی مذمت کی اور امریکیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔