اسرائیلی فوج میں خودکشیوں کا سنگین بحران، صرف رواں ماہ 8 اہلکاروں نے اپنی جان لے لی

اسرائیلی فوج اور پولیس کے اندر جاری نفسیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں صرف اپریل کے مہینے میں 8 اہلکاروں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے، جو پندرہ سالوں میں خودکشیوں کی بلند ترین شرح ہے۔
اسرائیل کے معتبر اخبار ہاریتز کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے اسرائیلی دفاعی اور سیکیورٹی اداروں پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے آغاز سے اب تک ڈیوٹی پر موجود 10 فوجی اہلکار خودکشی کر چکے ہیں، جن میں سے چھ واقعات صرف رواں ماہ اپریل میں پیش آئے۔
اگر مجموعی اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو صرف اپریل کے مہینے میں 8 حاضر سروس فوجیوں اور پولیس اہلکاروں، جنگ میں حصہ لینے والے تین ریزرو فوجیوں اور دو پولیس افسران نے موت کو گلے لگا لیا، جو ایک غیر معمولی اور خطرناک اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں اسرائیلی حملوں میں مزید 14 افراد شہید
سات اکتوبر کے بعد سے شروع ہونے والا یہ رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے، جہاں 2023 کے آخر میں 7، 2024 میں 21 اور 2025 میں 22 حاضر سروس اہلکاروں نے خودکشی کی، جو گزشتہ 15 سالوں کا بدترین ریکارڈ ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں اس لرزہ خیز اضافے کی بنیادی وجہ طویل جنگ کے باعث پیدا ہونے والا شدید نفسیاتی دباؤ، امدادی نظام کی عدم موجودگی اور ادارہ جاتی ناکامی کو قرار دیا گیا ہے۔
ذہنی صحت کے وسائل میں نمایاں کمی آئی ہے اور ریزرو فوجیوں کے لیے بنائے گئے نفسیاتی بحالی کے پروگرام یا تو منسوخ کر دیے گئے ہیں یا انہیں صرف جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے۔
حیران کن انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ کئی فوجیوں کو کسی بھی ذہنی صحت کے ماہر سے معائنہ کرائے بغیر ہی فارغ کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میدان جنگ میں ذہنی صحت کے افسران کی موجودگی کم کر دی گئی ہے، جبکہ کمانڈروں کی جانب سے فوجیوں پر سروس جاری رکھنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ذہنی طور پر غیر موزوں اہلکاروں کو بھی بغیر کسی جانچ پڑتال کے دوبارہ تعینات کیا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










