جمعرات، 30-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/13هـ (30-04-2026م)

امریکی بحریہ کا بحران، 13 ارب ڈالر کا طیارہ بردار جہاز سفید ہاتھی بن گیا

30 اپریل, 2026 12:24

امریکی بحریہ اپنے مستقبل کے طیارہ بردار بحری جہازوں کی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ فورڈ کلاس جہازوں کی تیاری میں ہونے والی تاخیر اور ہوشربا لاگت نے بحث چھیڑ دی۔

امریکی بحریہ اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین موڑ پر کھڑی ہے، جہاں اسے اپنی سمندری بالادستی برقرار رکھنے اور ناقابلِ برداشت اخراجات کے درمیان مشکل انتخاب کرنا ہے۔

سالہا سال سے جاری اخراجات میں اضافے، تکنیکی تاخیر اور فورڈ کلاس طیارہ بردار جہازوں کی پائیداری کے مسائل نے بحریہ کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی پوری کیریئر حکمتِ عملی کا از سرِ نو جائزہ لے۔

اس کلاس کے ایک بحری جہاز کی قیمت 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو اسے دنیا کی تاریخ کا مہنگا ترین فوجی پلیٹ فارم بناتی ہے۔

فورڈ کلاس کو پرانے نیمز کلاس جہازوں کی جگہ لینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جس میں جدید الیکٹرو میگنیٹک کیٹاپلٹس، جدید ترین ایٹمی ری ایکٹرز اور عملے کی تعداد کم کرنے کے لیے خودکار نظام نصب کیے گئے تھے تاکہ جنگی صلاحیتوں میں اضافہ اور طویل مدتی اخراجات میں کمی کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی دھمکی کے بعد سمندر کی گہرائی اب نیا میدان جنگ، امریکہ نے ڈیپ تھاٹس پروگرام کا آغاز کردیا

تاہم حقیقت اس کے برعکس نکلی، جہاں کئی سالوں کی تاخیر اور ہتھیاروں کے لفٹ سسٹم جیسے اہم تکنیکی مسائل نے ان جہازوں کی افادیت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔

سیاسی اور عسکری حلقوں میں اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا 13 ارب ڈالر کی یہ بھاری رقم ان فوائد کا جواز پیش کرتی ہے؟ اس جائزے کے ممکنہ نتائج میں فورڈ ڈیزائن میں بڑی تبدیلیاں، یا پھر چھوٹے اور زیادہ تعداد میں ’’لائٹ کیریئرز‘‘ کی جانب منتقلی شامل ہو سکتی ہے، جو دشمن کے میزائلوں کے خلاف زیادہ بچاؤ کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اگرچہ سینئر حکام کا اصرار ہے کہ طیارہ بردار جہاز اب بھی امریکی عسکری حکمتِ عملی کا مرکز ہیں، لیکن یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی مسلسل مینٹیننس کے مسائل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک ساتھ کئی نئی ایجادات متعارف کروانے کے اپنے خطرات ہوتے ہیں۔

اب ابھرتے ہوئے خطرات اور بجٹ کے دباؤ کے باعث روایتی بحری عقیدے کو تبدیل کیا جا رہا ہے، جس میں بڑے سائز کے بجائے لچک اور بقا کو ترجیح دی جائے گی۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔