جمعرات، 30-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/13هـ (30-04-2026م)

روس اور ایران کی مزاحمتی معیشت کے سامنے امریکی پابندیاں ناکام ثابت

30 اپریل, 2026 09:29

دہائیوں پر محیط پابندیوں کے باوجود ایران اور روس کی مزاحمتی معیشت نے نہ صرف انہیں دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے بلکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے وہ ریکارڈ منافع کما رہے ہیں۔

عالمی ماہرین اقتصادیات روس اور ایران کی معاشی لچک دیکھ کر دنگ رہ گئے ہیں۔ جہاں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ اس کی معیشت کو تباہ کر دے گی، وہیں تہران تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مالا مال ہو رہا ہے۔

ایران پچھلے 47 سال سے پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے کورونا وبا کے بعد بھی معاشی ترقی ریکارڈ کی ہے۔

اسی طرح روس کا قلعہ نما معیشت کا ماڈل 12 سال کی مسلسل پابندیوں کے باوجود مضبوط کھڑا ہے اور اس کا مجموعی ملکی قرض جی ڈی پی کے بیس فیصد سے بھی کم ہے۔

ایران نے اپنی حکمت عملی کو ‘مزاحمتی معیشت’ کا نام دیا ہے، جس کے تحت وہ تیل کی آمدنی پر انحصار کرتے ہوئے سونے اور غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے باعث گندھک کی شدید قلت، دنیا بھر میں کھاد اور ادویات کی قیمتیں بڑھ گئیں

ایران کا بیرونی قرض جی ڈی پی کا صرف 27 فیصد ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے مغربی مالیاتی نظام سے کٹا ہوا ہے۔

اس کے برعکس امریکہ کو داخلی معاشی چیلنجز اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں جنگ شروع ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں ایک ماہ کے دوران تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے عالمی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے ایرانی تیل کی فروخت کے لائسنس جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

روس اور ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وسائل کی دولت اور کم بیرونی قرضوں کے ذریعے عالمی تنہائی میں بھی نہ صرف زندہ رہا جا سکتا ہے بلکہ ترقی بھی کی جا سکتی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔