جمعرات، 30-اپریل،2026
جمعرات 1447/11/13هـ (30-04-2026م)

ایرانی دھمکی کے بعد سمندر کی گہرائی اب نیا میدان جنگ، امریکہ نے ‘ڈیپ تھاٹس’ پروگرام کا آغاز کردیا

30 اپریل, 2026 08:54

ایران کی جانب سے زیر سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو کاٹنے کی دھمکی کے بعد امریکہ نے ایک انتہائی جدید اور خودکار زیر سمندر ڈرون پروگرام ‘ڈیپ تھاٹس’ پر کام تیز کر دیا ہے۔

دنیا بھر کے انٹرنیٹ، مالیاتی لین دین اور اسٹاک مارکیٹ کا 95 فیصد ڈیٹا سمندر کی تہہ میں بچھی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

طویل عرصے تک ان کیبلز کی گہرائی کو ان کی حفاظت کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا، لیکن اپریل 2026 میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ان کیبلز کے درست مقامات کی نشاندہی اور انہیں کاٹنے کی دھمکی نے صورتحال بدل دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے تہران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کیلئے این پی ٹی فورم کا غلط استعمال کیا، ایرانی مشن

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے ‘ڈیپ تھاٹس’ کے نام سے ایک ہنگامی پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد ایسے چھوٹے اور سستے خودکار ڈرونز تیار کرنا ہے، جو سمندر کی گیارہ کلومیٹر گہرائی تک جا سکیں۔

یہ پروگرام دو حصوں پر مشتمل ہے، جس میں ایک حصہ عام معلومات اور دوسرا حصہ انتہائی خفیہ نوعیت کا ہے۔ ان ڈرونز کی تیاری کے لیے ایسے نئے دھاتی مرکبات استعمال کیے جا رہے ہیں، جو سمندر کی اتنی گہرائی میں پانی کے شدید دباؤ کو برداشت کر سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز نہ صرف دشمن کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھیں گے بلکہ انتہائی خاموشی سے دشمن کی مواصلاتی کیبلز تک رسائی حاصل کر کے ان کا ڈیٹا ہیک کرنے یا انہیں کاٹنے کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

پینٹاگون نے اس منصوبے کے لیے 24 ماہ کی مہلت دی ہے، جس کے بعد زیر سمندر جنگ کا پورا تصور تبدیل ہونے کی توقع ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔