ایران اور امریکا کے درمیان نئے سرے سے تصادم کا امکان ہے: سینئر عہدیدار خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرز

تہران میں ایرانی خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کی جانب سے ایک اہم بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر براہ راست تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ تاہم ایرانی مسلح افواج کو ہر ممکن صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار قرار دیا گیا ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر سردار اسدی کے مطابق موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا اپنے معاہدوں پر مکمل عمل نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی سلامتی کے لیے تمام دفاعی ادارے ہائی الرٹ ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا جارحیت کے سامنے کمزوری نہیں دکھائے گا۔ اگر دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے تو مسلح افواج بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا کے رویے نے خطے میں اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ تہران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے بیان میں سخت موقف اپنایا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں پر دباؤ ڈالنے اور نگرانی کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا ایرانی تیل اور بحری راستوں پر اثر انداز ہو رہا ہے اور اسے ایک منافع بخش حکمت عملی قرار دیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر خطے کی صورتحال پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












