اتوار، 3-مئی،2026
اتوار 1447/11/16هـ (03-05-2026م)
تازہ ترین خبریں

صدر ٹرمپ کا ایرانی امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار، حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی

03 مئی, 2026 08:39

صدر ٹرمپ نے ایران کے امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر تہران نے برا رویہ اختیار کیا تو فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی 14 نکاتی امن تجویز پر اپنے پہلے تفصیلی ردعمل میں سخت گیر مؤقف اپنایا ہے۔

فلوریڈا میں ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ انہیں مجوزہ ڈیل کے تصور سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے اور اب وہ اس کی باضابطہ تحریر کا جائزہ لیں گے۔ تاہم انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ یہ تجاویز امریکہ کے لیے قابل قبول ہوں گی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ 47 سالوں میں دنیا اور انسانیت کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس کی ابھی پوری قیمت ادا نہیں کی گئی، اس لیے اتنی جلدی کسی سمجھوتے پر پہنچنا مشکل نظر آتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے برا رویہ اپنایا یا کوئی بھی ایسی حرکت کی جو امریکہ کے مفاد کے خلاف ہو، تو ایران پر فضائی حملے کسی بھی وقت دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران نے پاکستان ذریعے امریکہ کو 14 نکاتی جامع تجاویز پیش کر دیں

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت ناکہ بندی اور مسلسل حملوں کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور وہ صرف اس لیے میز پر آیا ہے، کیونکہ اس کے پاس اب کوئی چارہ نہیں بچا۔

ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ایرانیوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کا لیڈر کون ہے، کیونکہ ان کے بقول سابق ایرانی رہنما علی خامنہ ای اب منظر نامے سے ہٹ چکے ہیں۔

اسی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی تنازع کو نیٹو اتحادیوں کے ساتھ بھی جوڑ دیا۔ انہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک میرز کے اس بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا، جس میں چانسلر نے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس کوئی واضح حکمت عملی نہیں اور اسے ایران نے بے عزت کیا ہے۔

اس کے جواب میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جرمنی سے 5000 امریکی فوجیوں کی واپسی تو محض ایک شروعات ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ تعداد میں فوج واپس بلائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو انتہائی دوستانہ قرار دیتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اس سے کسی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے اپنے سابقہ بیانات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی ایران سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، کیونکہ اگر وہ ابھی نکل گئے تو ایران کو دوبارہ کھڑے ہونے میں 20 سال لگ جائیں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔