بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں 40 روپے اضافہ

Big Petroleum Update Announced
بلوچستان کے ضلع گوادر اور ایران سے متصل سرحدی و ساحلی علاقوں میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گوادر میں ایرانی تیل جیونی کے علاقے میں واقع کنٹانی ہور سے سمندر کے راستے آتا ہے۔ اس مقام کی بندش کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مقامی سطح پر فوری قلت کا خدشہ پیدا ہوا اور قیمتیں یکدم اچھل گئیں۔ یہ علاقہ بلوچستان کے لاکھوں افراد کے لیے سستے ایندھن کا واحد ذریعہ ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی تیل مہنگا ہو رہا ہے۔ برطانوی خام تیل برینٹ 107 ڈالر اور امریکی خام تیل 101 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی میں کمی قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل رہی ہے۔
اس عالمی صورتحال کے پیشِ نظر جمعہ کے روز حکومتی جائزے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا قوی امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کم از کم 10 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان متوقع ہے — جس کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔
پاکستان درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والا ملک ہے — عالمی منڈی میں ہر اتار چڑھاؤ براہ راست عام شہری کی جیب پر اثر ڈالتا ہے۔ گوادر جیسے علاقوں میں جہاں ایرانی پیٹرول ہی واحد سہارا ہے، وہاں یہ اضافہ پہلے سے مشکل زندگی کو مزید بوجھل بنا دے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












