80 سالہ اسرائیلی مظالم کی تاریخ اور غزہ میں جاری بدترین انسانی بحران

حالیہ رپورٹس نے اسرائیل کے ان مظالم کو بے نقاب کیا ہے، جن میں معصوم بچوں کا قتل عام، جبری حراستیں، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اور رہائشی عمارتوں کی منظم تباہی شامل ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کا مکمل وجود مٹانا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر کیے جانے والے مظالم کی تاریخ اسی سال پرانی ہے، جس کا ایک ہولناک رخ حال ہی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اگست 1949 کی ایک بارہ سالہ فلسطینی لڑکی کے اغوا، تشدد اور قتل کی داستان چھاپ کر دنیا کے سامنے رکھا۔
اس واقعے کا اندراج اس وقت کے اسرائیلی رہنما بین گورین نے اپنی ڈائری میں بھی کیا تھا، جسے بعد میں سنسر کر دیا گیا۔
اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے اس رپورٹ کو بے بنیاد الزام قرار دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ آج بھی اپنی جیلوں میں 9 ہزار 600 سے زائد فلسطینیوں کو قید رکھے ہوئے ہے، جن میں ساڑھے 350 بچے شامل ہیں اور 3 ہزار 500 سے زائد افراد بغیر کسی جرم یا مقدمے کے انتظامی حراست میں ہیں۔
اکتوبر 2025 سے اب تک 80 فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں تشدد، بھوک اور طبی غفلت کے باعث دم توڑ چکے ہیں، جو اسرائیل کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتا ہے۔
تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو غزہ میں نام نہاد جنگ بندی ایک تلخ مذاق کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ اکتوبر 2025 کے بعد سے کئی فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں اور اسرائیلی حملے روزانہ کا معمول ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی امن کیلئے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری، اسرائیل اور بھارت کی منظم اور گمراہ کن پروپیگنڈا مہم بے نقاب
مغربی کنارے میں جنوری 2025 سے مئی 2026 کے درمیان 70 فلسطینی بچے اسرائیلی افواج کے ہاتھوں مارے گئے، یعنی ہر ہفتے ایک بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ الشفا اسپتال میں چینی صحافیوں نے ایسے معصوم بچوں کی لاشیں دیکھیں، جن کے سر تن سے جدا تھے۔
اس بدترین صورتحال میں اسرائیل نے انسانی امداد کو روک کر بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میں 157 بچوں سمیت 463 فلسطینی بھوک سے تڑپ کر مر گئے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز کے مطابق یہ اقدامات فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کو مٹانے کی منظم مہم کا حصہ ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی فروری 2026 کی رپورٹ واضح طور پر خبردار کرتی ہے کہ اسرائیل پورے علاقے کو تباہ کر کے وہاں مستقل آبادیاتی تبدیلی یعنی نسلی صفایا کرنا چاہتا ہے۔
مغربی کنارے میں 2 ہزار 500 سے زائد فلسطینیوں کو بے گھر کیا جا چکا ہے، جن میں 100 بچے شامل ہیں اور ان میں 75 فیصد کارروائیاں انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کی ہیں۔
اسرائیلی وزراء سوشل میڈیا پر کھلم کھلا ان جرائم پر فخر کرتے ہیں اور اب یہ جارحیت فلسطین سے نکل کر جنوبی لبنان تک پھیلانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جہاں شہریوں کے گھروں کو ملبے کا ڈیر بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ اسرائیلی قیادت عالمی قوانین سے بالاتر ہو کر جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












