چین کا نیا کوانٹم کمپیوٹر جیوژانگ 4.0 تیار، ٹیکنالوجی کی دوڑ میں امریکہ کو بدترین شکست

چین نے دنیا کا سب سے جدید اور طاقتور ترین کوانٹم کمپیوٹر جیوژانگ 4.0 تیار کر کے ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ میں امریکہ کو بدترین سائنسی شکست دے دی ہے۔
کوانٹم کمپیوٹنگ کی عالمی دوڑ میں چین نے اپنے سب سے بڑے حریف امریکہ کو بہت پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک ایسی تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جس نے عالمی ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔
چین کے نئے قابلِ پروگرام فوٹونک کوانٹم کمپیوٹنگ پروٹوٹائپ جیوژانگ 4.0 نے ایک انتہائی پیچیدہ حسابی تخمینے کو سیکنڈ کے ایک بہت ہی چھوٹے حصے یعنی صرف پچیس مائیکرو سیکنڈز میں مکمل کر کے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو حیران کر دیا ہے۔
جیوژانگ 4.0 نے گوزین بوزون سیمپلنگ کے جس مشکل ترین ریاضیاتی ٹاسک کو محض چند مائیکرو سیکنڈز میں حل کیا ہے، اس کے بارے میں عالمی سائنسی ماہرین کا تخمینہ ہے کہ اگر وہی حساب امریکہ کے سب سے طاقتور کلاسک سپر کمپیوٹر ایل کیپیٹن سے کروایا جائے تو اسے مکمل کرنے کے لیے دس کی طاقت بیالیس سال یعنی اربوں سال سے بھی زیادہ کا وقت درکار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : چین کا چاند پر بھیجنے والا پہلا اے آئی روبوٹ تیار، پاکستان اور ایران بھی مشن میں شامل
چین کا یہ جدید ترین نظام ایک ہزار چوبیس اسکوئیزڈ اسٹیٹ ان پٹس یعنی روشنی کے دباؤ والے ذرات کے ساتھ آٹھ ہزار ایک سو چھہتر موڈ انٹرفیرومیٹرک نیٹ ورک یعنی نوری راستوں کے ایک پچیدہ جال پر کام کرتا ہے، اور یہ بیک وقت تین ہزار پچاس فوٹونز یعنی روشنی کے بنیادی ذرات کو پکڑنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کی حیران کن صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ پچھلے تمام سائنسی تجربات کے مقابلے میں دس گنا سے بھی زیادہ بڑا پیمانہ ہے۔
اس کوانٹم کمپیوٹر نے بانوے فیصد سورس کارکردگی اور اکیاون فیصد مجموعی نظام کی کارکردگی حاصل کی ہے، جس کی بدولت فوٹونک کوانٹم کمپیوٹنگ کی تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹ یعنی بڑے پیمانے کے نوری سرکٹس میں فوٹون کے ضیاع اور راستے میں روشنی کے ذرات کے ضائع ہونے کے مسئلے پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔
اس سے قبل اکتوبر 2023 میں چین نے جیوژانگ 3.0 متعارف کرایا تھا، جس نے دس کی طاقت سولہ کا کوانٹم ایڈوانٹیج ریشو دکھایا تھا، لیکن نیا ماڈل اس سے بھی کہیں زیادہ طاقتور اور تیز رفتار ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے گوگل، آئی بی ایم اور مائیکروسافٹ عسکری اور سائنسی سطح پر سپر کنڈکٹنگ کوانٹم کمپیوٹرز بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جن کے لیے خلا سے بھی زیادہ ٹھنڈے درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن چین کے جیوژانگ سلسلے نے ایک بالکل مختلف فوٹونک طریقہ کار اختیار کیا ہے، جس میں سپر کنڈکٹنگ کیوبٹس کے بجائے عام درجہ حرارت پر روشنی کے ذرات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے میدان میں چین کی اس تیز رفتار سائنسی ترقی کا مقابلہ کرنے میں مسلسل ناکام اور پیچھے دکھائی دے رہا ہے، اور جیسے جیسے یہ عالمی کوانٹم ریس تیز ہو رہی ہے، اس کے اسٹرٹیجک اور دفاعی خطرات مزید بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ اب نئی سائنسی ایجادات بذاتِ خود ایک عالمی میدانِ جنگ بن چکی ہیں، جس پر چین نے اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












