موبائل فون مہنگے ہونے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

Reason behind expensive smartphones revealed
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اب موبائل فون مارکیٹ کو بھی متاثر کرنے لگی ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ میموری چپس کی قلت بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمپیوٹر سسٹمز میں استعمال ہونے والی طاقتور میموری چپس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب اپنی زیادہ تر پیداوار مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے مختص کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو ضروری پرزے مہنگے داموں خریدنے پڑ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فونز میں استعمال ہونے والی ریم اور اسٹوریج چپس کی کمی سے فون تیار کرنے کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی وجہ سے آئندہ سال مختلف موبائل برانڈز اپنے فونز کی قیمتوں میں 7 سے 15 فیصد تک اضافہ کر سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق کچھ کمپنیاں قیمتیں بڑھانے کے بجائے فونز کی خصوصیات کم کرنے کا راستہ اختیار کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر فون کی اسٹوریج، کیمرہ یا دیگر فیچرز محدود کیے جا سکتے ہیں تاکہ لاگت کو قابو میں رکھا جا سکے۔
درمیانی قیمت والے موبائل فونز اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ کم قیمت یا درمیانے درجے کے فون بنانے والی کمپنیوں کا منافع نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس لیے ان پر مالی دباؤ زیادہ پڑنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب مہنگے اور معروف برانڈز اس بحران کو نسبتاً بہتر انداز میں سنبھال سکتے ہیں۔
ماہرین نے اس صورتحال کو “میموری کرائسس” کا نام دیا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد یادداشتی چپس کی وہ عالمی قلت ہے جو اب پوری ٹیکنالوجی انڈسٹری پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں اسمارٹ فونز کے علاوہ دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












