ٹیکنالوجی کی جنگ میں ہواوے کی ایپل کو حیران کن شکست

امریکی پابندیوں کا شکار چینی کمپنی ہواوے مکمل طور پر خود کفیل ہو کر ابھری ہے، جبکہ امریکی کمپنی ایپل اب بھی اپنے اسی فیصد پرزوں کے لیے چین کی محتاج ہے۔
امریکہ کی پہچان ایپل اپنے اسی فیصد سپلائرز کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے۔ آئی فون کی ڈسپلے اسکرین، بیٹریاں، کیمرے اور سینسرز سب کچھ اسی ملک میں بنتے ہیں، جسے واشنگٹن اپنا سب سے بڑا حریف قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب ہواوے، جس پر امریکہ نے کڑی پابندیاں لگائیں، ان پابندیوں کی بدولت آج مکمل طور پر آزاد اور خود کفیل ہو چکا ہے۔ ہواوے نے اپنے ایسنڈ نامی مصنوعی ذہانت کے چپس، اپنی فیکٹریاں اور اپنے سرورز خود تیار کر لیے ہیں۔
ایپل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ٹرمپ انتظامیہ کا وہ مطالبہ ہے، جس میں انہیں اپنی پیداوار امریکہ منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آئی فون کی اسمبلی امریکہ منتقل کی گئی تو ایک فون کی قیمت بارہ سو ڈالر سے بڑھ کر تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گی، جسے مارکیٹ مسترد کر دے گی۔
یہ بھی پڑھیں : بحیرہ جنوبی چین پر قبضے کی نئی کوشش، امریکہ فلپائن میں بڑا ایئرپورٹ منصوبہ شروع کرے گا
اس کے علاوہ ایپل کا بھارت میں پیداوار بڑھانے کا منصوبہ بھی ایک سراب ثابت ہوا ہے، کیونکہ جب چینی انجینئرز چھٹیوں پر جاتے ہیں تو بھارت میں ایپل کی فیکٹریاں کام کرنا بند کر دیتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیکنیکی مہارت میں چین کا کوئی ثانی نہیں۔
ہواوے کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں اس کی آمدنی میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ہواوے نے اس وقت دنیا کو حیران کر دیا، جب اس نے اپنے مقامی کیرن چپس کے ساتھ میٹ سکسٹی سیریز لانچ کی، اور یہ لانچنگ عین اس وقت ہوئی جب امریکی وزیر تجارت چین کے دورے پر تھیں۔
آج ہواوے فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ میں بھی سب سے آگے ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ کی پابندیاں ہواوے کو ختم کرنے میں ناکام رہیں بلکہ اس نے اسے پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیا، جبکہ ایپل اب بھی اسی نظام کا یرغمال ہے، جسے واشنگٹن تباہ کرنا چاہتا ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












