نینو میڈیسن میں روس کی بڑی پیش رفت، کینسر کا مکمل خاتمہ ممکن بنا دیا

روسی سائنسدانوں نے کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے ایک ایسا نینو پلیٹ فارم آلہ تیار کیا ہے، جو براہ راست رسولی کے اندر دوا پہنچا کر مدافعتی خلیات کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
روس کی سیریس یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے کینسر کے علاج کی دنیا میں ایک انقلابی کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے ایک ایسا نینو سسٹم تیار کیا ہے، جو انسانی جسم کے اندر کینسر کی رسولی تک براہ راست دوا پہنچاتا ہے اور انسانی جسم کے مدافعت کرنے والے خلیوں کو کینسر کے خلاف دوبارہ لڑنے کے قابل بناتا ہے۔
اس تحقیق میں سائنسدانوں نے البومین نامی پروٹین پر مبنی ایک نظام استعمال کیا، جس میں صرف چوبیس نینو میٹر سائز کے چھوٹے ذرات شامل ہیں۔
یہ ذرات انفرا ریڈ روشنی کے ذریعے جسم کے اندر کینسر زدہ خلیوں کو پوری طرح روشن کر دیتے ہیں، جس سے بیماری کی تشخیص انتہائی آسان ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بحیرہ کیسپین راہداری: ایران اور روس کا امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کا ماسٹر پلان
اس نئے طریقہ علاج کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ کینسر کے خلیوں کو عام طریقے سے اندر سے تباہ کرنے کے بجائے ایک خاص حیاتیاتی عمل کے تحت مردہ کرتا ہے، جس سے انسانی جسم کا اپنا مدافعتی نظام خود بخود متحرک ہو جاتا ہے۔
تجربات کے دوران اگرچہ یہ معلوم ہوا کہ یہ نینو ذرات کینسر کے خلیوں کو آکسیڈیٹو اسٹریس کے ذریعے براہ راست نہیں مار سکتے، لیکن ان ذرات کے اندر ایک انتہائی طاقتور اینٹی بیکٹیریل اثر دیکھا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی چوبیس نینو میٹر کے چھوٹے ذرات کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ جسم کے اندر موجود دیگر خطرناک بیکٹیریل انفیکشنز اور جراثیموں کو ختم کرنے کے لیے بھی برابر مفید ثابت ہوں گے۔ روس اس وقت کینسر کے اس جدید علاج اور نینو میڈیسن کے شعبے میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












