اتوار، 14-جون،2026
ہفتہ 1447/12/27هـ (13-06-2026م)

سرکاری ملازمین خبردار!!! حکومت نے اچانک بڑا فیصلہ کرلیا

03 جون, 2026 11:58

وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کی غیر ملکی اور دہری شہریت کے حوالے سے نئے اور سخت قواعد نافذ کر دیے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم کی منظوری کے بعد "سول سرونٹس (ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026” نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ان قواعد کے تحت تمام سول سرونٹس کے لیے غیر ملکی شہریت یا دیگر متعلقہ معلومات چھپانا قابلِ مواخذہ عمل قرار دیا گیا ہے۔

نئے قوانین کے مطابق سرکاری افسران اپنی ذاتی معلومات کے ساتھ ساتھ اپنی شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت سے متعلق مکمل ریکارڈ حکومت کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

 اس کے علاوہ اگر کسی افسر، اس کی شریک حیات یا بچوں کے پاس غیر ملکی پاسپورٹ، گرین کارڈ یا کسی دوسرے ملک کی مستقل یا عارضی رہائش کی دستاویز موجود ہے تو اس کی تفصیلات بھی جمع کروانا ضروری ہوں گی۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی سول سرونٹ حکومت پاکستان کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح غیر ملکی پاسپورٹ یا دیگر قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے بھی متعلقہ حکام کی منظوری درکار ہوگی۔

حکام کے مطابق ان قواعد کا مقصد سرکاری افسران کی غیر ملکی وابستگیوں کو ریکارڈ پر لانا اور حساس سرکاری عہدوں پر تعینات افراد کے بارے میں مکمل معلومات کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے انتظامی نظام میں شفافیت بڑھے گی اور قومی مفادات کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

نئے رولز میں خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ اگر کوئی افسر اپنی یا اپنے خاندان کی غیر ملکی شہریت یا دیگر متعلقہ معلومات چھپاتا ہے تو اسے سنگین بدعنوانی یا "مس کنڈکٹ” تصور کیا جائے گا۔

مزید یہ کہ اگر تحقیقات کے دوران ثابت ہو جائے کہ کسی افسر نے جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کیں یا حقائق کو پوشیدہ رکھا تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ ایسے معاملات میں جرمانے، ترقی روکنے یا سرکاری ملازمت ختم کرنے جیسی سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔