جنگ بندی کی آڑ میں گریٹر اسرائیل کیلئے لبنانی اور شامی علاقوں پر مستقل قبضہ

اسرائیل جنگ بندی کے مذاکرات کی آڑ میں مستقل فوجی چوکیاں اور سڑکیں بنا کر ’گریٹر اسرائیل‘ کے ایجنڈے کے تحت لبنانی اور شامی زمین پر مستقل قبضہ کر رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور زمینی حقائق سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل عارضی قبضے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے جنوبی لبنان کی پہاڑیوں سے لے کر شام کی اسٹریٹجک بلندیوں تک مستقل طور پر اپنے پاؤں جما رہا ہے۔
اکتوبر 2024 میں لبنان پر حملے کے بعد سے اسرائیل نے 79 کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ 5 اہم پہاڑی مقامات پر تیزی سے قلعہ بندی کی ہے۔
جنوری سے نومبر 2025 کے درمیان ان علاقوں میں سڑکوں کو چوڑا کیا گیا، مٹی کے بڑے حفاظتی بند بنائے گئے، نئے واچ ٹاور تعمیر ہوئے اور فوجیوں کے رہنے کی گنجائش میں اضافہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی میڈیا اور رائے عامہ کو تبدیل کرنے کیلئے کروڑوں ڈالر کی اسرائیلی فنڈنگ کا انکشاف
لبونہ اور تل دوری کے فوجی اڈے اب ان لبنانی دیہاتوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جنہیں اسرائیل نے مستقل خالی کرا دیا ہے۔
امریکا کی حمایت یافتہ حالیہ جنگ بندی کی تجویز میں لبنان کے تقریباً 5 ویں حصے سے اسرائیل کے مکمل انخلا کا کوئی ذکر نہیں ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان کو باقی ملک سے الگ کر کے ’گریٹر اسرائیل‘ کے خاکے میں رنگ بھر رہا ہے۔
دوسری طرف شام میں 2024 کے آخر میں اسد حکومت کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر مستقل قبضہ کر لیا ہے اور جنوبی قنیطرہ صوبے کا کچھ حصہ باقاعدہ اسرائیل میں شامل کر لیا ہے۔
اسرائیل نے جبلِ شیخ کی چوٹی پر قبضہ کر کے دریائے یرموک تک 70 کلومیٹر طویل کنٹرول لائن قائم کر لی ہے اور قنیطرہ، درعا اور دمشق کے دیہی علاقوں میں 10 نئے فوجی اڈے بنا لیے ہیں۔ یہ تمام کارروائیاں غاصبانہ زمینی قبضے کا واضح ثبوت ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












