ایران معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ہے، ڈیموکریٹ ارکان کی تنقید

امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ متوقع امن معاہدے پر سخت شک و شبہے کا اظہار کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر ایڈم شیف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر کہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو گئی ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ صدر ٹھیک کہہ رہے ہوں، لیکن ہم پہلے بھی ایسے ٹوٹے ہوئے وعدے سن چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے نئی جنگیں تو شروع کیں لیکن اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی، جس نے امریکی عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عوامی مزاحمت نے اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کیا، ایرانی صدر کا 12 روزہ جنگ کی پہلی برسی پر پیغام
دوسری جانب امریکی کانگریس کے رکن سیتھ مولٹن نے اس ممکنہ معاہدے کو بنیادی طور پر ایک دستبرداری یا ہتھیار ڈالنے کی دستاویز قرار دیا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بدترین معاہدہ ہے اور یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کے سپریم لیڈر کے سامنے سرنڈر کرنے جیسا ہے۔
سیتھ مولٹن کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے 100 ارب ڈالر اس جنگ میں لگ چکے ہیں اور 14 امریکیوں کی جانیں گئیں، لیکن بدلے میں ہمیں ایسا معاہدہ مل رہا ہے، جو صرف اس راستے کو دوبارہ کھولتا ہے، جو اس بے وقوفانہ جنگ کے شروع ہونے سے پہلے ہی کھلا ہوا تھا، اس کو بھلا کامیابی کیسے کہا جا سکتا ہے؟
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












