اتوار، 14-جون،2026
اتوار 1447/12/28هـ (14-06-2026م)

ریکوڈک منصوبے میں بڑی پیش رفت، چینی کمپنیوں کی شمولیت پر غور، 74 ارب ڈالر سے زائد آمدن متوقع

14 جون, 2026 19:21

اسلام آباد: پاکستان کے سب سے بڑے معدنیاتی منصوبے ریکوڈک میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں منصوبے کی لاگت میں کمی، سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر نمٹنے اور ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنے کے لیے چینی کمپنیوں کو شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام اور بیرک گولڈ کے چیئرمین کے درمیان حالیہ ملاقاتوں میں منصوبے میں چینی شراکت داروں کی شمولیت سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بیرک گولڈ مغربی کنٹریکٹرز پر انحصار کم کرنے اور مختلف شعبوں میں چینی کمپنیوں کو شامل کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہات کے باعث منصوبے کا فنانشل کلوز تاخیر کا شکار ہے، تاہم اس کے باوجود منصوبے پر پیش رفت جاری ہے اور تجارتی پیداوار کا آغاز 2028 کے آخر تک متوقع ہے۔

تازہ فیزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ منصوبہ پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سرمایہ کاری منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ منصوبے سے آئندہ 37 برسوں کے دوران 74 ارب ڈالر سے زائد فری کیش فلو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔

فیزیبلٹی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے کی لاگت بڑھ کر 6.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو ابتدائی تخمینوں کے مقابلے میں تقریباً 58 فیصد زیادہ ہے۔ لاگت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی مہنگائی، پیداواری صلاحیت میں توسیع اور بنیادی ڈھانچے کی اضافی ضروریات شامل ہیں۔

ریکوڈک منصوبے میں بیرک گولڈ 50 فیصد حصص کی مالک اور آپریٹر ہے، جبکہ باقی 50 فیصد حصہ وفاقی حکومت اور حکومتِ بلوچستان کے پاس ہے۔ وفاقی حکومت کی نمائندگی او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں سالانہ تقریباً دو لاکھ ٹن تانبا پیدا کیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد یہ صلاحیت بڑھ کر تقریباً چار لاکھ ٹن سالانہ ہو جائے گی۔ اسی طرح سونے کی اوسط سالانہ پیداوار تقریباً پانچ لاکھ اونس متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ریکوڈک کی متوقع 37 سالہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 13.1 ملین ٹن تانبا اور 17.9 ملین اونس سونا حاصل کیا جا سکے گا، جس سے پاکستان عالمی معدنیاتی منڈی میں ایک اہم مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کے باوجود چینی کمپنیاں بڑے انفراسٹرکچر اور معدنیاتی منصوبوں پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ حکومتی حلقوں کے مطابق چینی شمولیت سے منصوبے کی لاگت، تکمیل کے دورانیے اور آپریشنل خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی دلچسپی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) نے 400 ملین ڈالر کے اضافی قرض کا اعلان کیا، جس کے بعد منصوبے کے لیے اس کی مجموعی مالی معاونت 700 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی معدنیاتی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے سے بلوچستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت کو نمایاں فوائد حاصل ہوں گے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹیکس، رائلٹی اور منافع کی مد میں اربوں ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔