بدھ، 17-جون،2026
بدھ 1448/01/02هـ (17-06-2026م)

نوجوانوں کو ہارٹ اٹیک سے پہلے کیا علامات محسوس ہوتی ہیں؟ اہم انکشافات سامنے آگئے

17 جون, 2026 15:09

دل کے امراض دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب یہ بیماریاں صرف بڑی عمر کے افراد تک محدود نہیں رہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں 30 سے 45 سال کی عمر کے نوجوان بھی بڑی تعداد میں دل کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ خواتین میں بھی دل کی بیماریوں کا خطرہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گیا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جدید طرزِ زندگی، مسلسل ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور ہارمونز میں تبدیلیاں خواتین میں دل کے امراض کی اہم وجوہات بن رہی ہیں۔ خواتین میں دل کی بیماری کی علامات اکثر مردوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سی خواتین ان ابتدائی علامات کو عام تھکن یا کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں، جس سے بیماری سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیل دونوں الگ الگ بیماریاں ہیں۔ ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون پہنچانے والی شریان بند ہو جائے۔ اس سے دل کے پٹھوں تک خون اور آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے اور متاثرہ حصہ نقصان کا شکار ہو جاتا ہے۔

 دوسری جانب ہارٹ فیل ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دل کمزور ہو جاتا ہے اور جسم کی ضرورت کے مطابق خون پمپ نہیں کر پاتا۔ یہ ایک طویل عرصے تک رہنے والی بیماری ہے، لیکن بروقت علاج اور ادویات سے مریض معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بعض اوقات شدید ہارٹ اٹیک بھی بعد میں ہارٹ فیل کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس لیے دل کے دورے کی علامات کو معمولی سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

نوجوان افراد میں ہارٹ اٹیک کی علامات ہمیشہ شدید سینے کے درد کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات سینے میں دباؤ یا جکڑن محسوس ہوتی ہے۔ غیر معمولی تھکن، سانس لینے میں دشواری، بازو، گردن یا جبڑے میں درد بھی خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔ اگر ایسی علامات بار بار ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

خواتین میں ہارٹ اٹیک کی علامات نسبتاً مختلف ہو سکتی ہیں۔ سینے کے درمیان دباؤ، بھاری پن یا درد چند منٹ کے لیے محسوس ہو سکتا ہے اور پھر دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گردن، جبڑے، کندھے، بازو، کمر یا پیٹ میں درد بھی دل کے دورے کی نشانی ہو سکتا ہے۔ سانس پھولنا، ٹھنڈا پسینہ آنا، متلی، چکر آنا، شدید کمزوری، غیر معمولی تھکن اور بے چینی بھی اہم علامات میں شامل ہیں۔ بعض خواتین کو اوپری کمر میں شدید دباؤ یا کھنچاؤ بھی محسوس ہوتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق دل کی زیادہ تر بیماریوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر بچاؤ ممکن ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ دل کا باقاعدہ طبی معائنہ کروایا جائے۔ سگریٹ نوشی ترک کی جائے کیونکہ ایک سال کے اندر دل کی بیماری کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔

صحت مند زندگی کے لیے ہفتے میں کم از کم 150 منٹ ہلکی یا درمیانی ورزش، یا 75 منٹ سخت جسمانی ورزش کرنا مفید ہے۔ اس کے ساتھ پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں بھی معمول کا حصہ ہونی چاہئیں۔

خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں، ثابت اناج، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، خشک میوہ جات اور صحت بخش پروٹین شامل کیے جائیں۔ فاسٹ فوڈ، زیادہ نمک، چینی اور پراسیسڈ غذا کے استعمال سے حتیٰ الامکان پرہیز کیا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خواتین اور نوجوان دل کی بیماری کی ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے لیں اور بروقت طبی مشورہ حاصل کریں تو نہ صرف ہارٹ اٹیک کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ہونے والی کئی پیچیدگیوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔