انمول عرف پنکی کے مالیاتی نیٹ ورک سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف

ایف آئی اے نے انمول عرف پنکی کے مالیاتی نیٹ ورک اور منی ٹریل کی تفتیش کے دوران کروڑوں روپے کے غیر قانونی لین دین کے نئے انکشافات کیے ہیں۔
ایف آئی اے نے انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس کے تفتیش کاروں کو بھی اہم معلومات فراہم کر دی ہیں، جس کے مطابق پنکی اور اس کے گروپ کے زیرِ استعمال 30 کے قریب بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق مالیاتی لین دین کا یہ سلسلہ 2020 سے 2026 تک مسلسل جاری رہا۔ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ محمد سمیر نامی ملزم مختلف اکاؤنٹس سے رقوم وصول کرتا تھا اور آگے دوسرے ملزمان کو منتقل کرتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں : منشیات کیس میں بڑا انکشاف؛ انمول عرف پنکی کے مبینہ رابطہ نیٹ ورک کی تحقیقات
ملزمان کے درمیان فنڈز کی منتقلی کے لیے فیاض کمیونیکیشنز کا اکاؤنٹ ایک اہم ذریعہ رہا ہے، جہاں سے جازکیش اور مختلف بینک اکاؤنٹس میں لاکھوں روپے منتقل کیے گئے۔
محمد سمیر کو 105 ٹرانزیکشنز کے ذریعے 90 لاکھ روپے سے زائد کی رقم منتقل کی گئی۔ اس نیٹ ورک سے غیر ملکی خواتین بیسل ایمیکا کو 20 لاکھ روپے سے زائد اور اوچوبا چیک چنوبا کو 19 لاکھ روپے منتقل ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
اس کے علاوہ حمیرا نامی خاتون کے اکاؤنٹ میں بھی متعدد ٹرانزیکشنز کے ذریعے بڑی رقم منتقل کی گئی۔ ایف آئی اے اس پورے نیٹ ورک کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









