بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق تشویشناک خبر سامنے آگئی

Concerning News About BISP Emerges
سینیٹ اجلاس کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی شفافیت اور فنڈز کی تقسیم کا معاملہ زیر بحث آیا۔
تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مستحق افراد کو بی آئی ایس پی کی مالی امداد نہیں دی جا رہی۔ امدادی رقوم کی تقسیم میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، جس سے بہت سے مستحق خاندان اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا مقصد غریب اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنا ہے، لیکن سندھ میں اس پروگرام کو سیاسی بنیادوں پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ فنڈز عوامی فلاح کے بجائے حکومتی مفادات کے لیے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ امدادی رقوم کی تقسیم مکمل شفاف انداز میں ہونی چاہیے تاکہ ہر مستحق شخص کو اس کا حق مل سکے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ ہے۔ اس کا آغاز 2008 میں کم آمدنی والے خاندانوں کی مالی مدد کے لیے کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے ذریعے لاکھوں مستحق خاندانوں، خاص طور پر خواتین، کو نقد امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ اس کے اہم منصوبوں میں بے نظیر کفالت، تعلیمی وظائف اور نشوونما پروگرام شامل ہیں۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں اس پروگرام کا بجٹ 716 ارب روپے تھا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









