پاکستانی حدود میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں کے افغان دعوے جھوٹے ہیں، وزارتِ اطلاعات

وزارتِ اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی سرحدی علاقوں میں داعش خراساں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے دعوؤں کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق افغان طالبان کی حکومت اپنے مختلف پروپیگنڈا ذرائع اور سرکاری بیانات کے ذریعے یہ گمراہ کن دعوے کر رہی ہے کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں داعش خراساں کے مبینہ کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سلامتی کونسل کا افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اور طالبان کی سرپرستی پر اظہار تشویش
ترجمان نے واضح کیا کہ یہ دعوے ہمیشہ کی طرح بالکل جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ داعش، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سمیت دو درجن سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے مراکز خود افغان طالبان کے زیرِ اثر افغان علاقوں میں قائم ہیں اور وہیں سے چلائے جا رہے ہیں۔
طالبان حکومت پڑوسی ممالک اور خطے میں اپنے زیرِ سرپرستی چلنے والی دہشت گردی کو چھپانے کے لیے ایسے من گھڑت بیانات جاری کر رہی ہے۔
اصل حقائق کے مطابق افغان طالبان کا ایک عام نوعیت کا ڈرون خیبر کے علاقے شنکو کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، جسے پاکستان ایئر فورس کے الرٹ ایئر ڈیفنس سسٹم نے فوری طور پر شناخت کر کے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









