اتوار، 21-جون،2026
اتوار 1448/01/06هـ (21-06-2026م)

ہتھیار ڈالنے تک دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

21 جون, 2026 15:14

میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ریاست کو توڑنے اور ہتھیار نہ ڈالنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، انہوں نے پولیس کی تنخواہوں اور شہدا گرانٹ میں اضافے کا اعلان بھی کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں بلوچ روایات کو مسمار اور پامال کیا جا رہا ہے، اور اہم شخصیات کے گھروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ نواب ذوالفقار قائد ایوان اور گورنر بلوچستان بھی رہ چکے ہیں، ان کی عزت ہونی چاہیے۔

انہوں نے آئی جی بلوچستان پولیس کو ہدایت دی کہ اغوا ہونے والے افراد کو فوری بازیاب کرایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان پر اور ان کے ساتھیوں پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ مذاکرات کے حامی نہیں ہیں، حالانکہ کوئی بھی ذی شعور انسان یہ نہیں سوچ سکتا کہ مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم خود جنگ کے متاثرہ ہیں اور میرے 39 سے زائد حامی شہید ہو چکے ہیں۔ ہم صوبے میں امن چاہتے ہیں کیونکہ امن سے ہی ترقی جڑی ہوئی ہے۔ لیکن ایسے مذاکرات کا کیا فائدہ جس میں ایک فریق نے ہارنا اور دوسرے نے جیتنا ہو۔

میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست پاکستان کو توڑنے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی، البتہ آئین کے اندر رہ کر بات کرنے والوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اگر دنیا کے کسی ملک نے دہشت گردوں سے مذاکرات کیے ہیں تو ہم بھی کر لیتے ہیں، لیکن جنہوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں ان سے تب تک مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک وہ ہتھیار نہ ڈال دیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری ٹرینیں ہائی جیک کی جاتی ہیں اور نہتے فوجیوں کو چھٹی پر جاتے ہوئے مارا جاتا ہے۔ کسی بلوچ نے کسی پنجابی کو قتل نہیں کیا بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو شہید کیا ہے۔ بلوچ کو ایک لاحاصل جنگ میں ڈال دیا گیا ہے، کیا تشدد کے ذریعے بلوچستان آزاد ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب صرف نہیں میں ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا، جب پاکستان کی جیت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان میں لیویز فورس کا پولیس میں انضمام مکمل، 32 ہزار سے زائد اہلکار پولیس کا حصہ بن گئے

انہوں نے مزید کہا کہ تشدد سے معصوم جانوں کا ضائع ہو رہا ہے اور ترقی کا راستہ روکا جا رہا ہے۔ ہم نے جس طرح بلوچستان کا کیس لڑا وہ تاریخ کا حصہ ہوگا۔ تشدد کرنے والے اور اس کی حمایت کرنے والے دونوں برابر ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو نوکریاں بک رہی تھیں کیا ان پر لاہور کا کوئی پنجابی بھرتی ہوا؟ تمام مسائل کا حل صرف گڈ گورننس ہے۔ اپنے نوجوانوں کو جو تشدد کی طرف جا رہے ہیں، انہیں واپس ریاست کی طرف لائیں۔ بچوں کو بہکا کر پہاڑوں اور تشدد کا رخ دکھایا گیا ہے، انہیں واپس لایا جائے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مجھے موت سے کھیلنے کی عادت ہو گئی ہے، لیکن میں بلوچستان کے بچوں اور بچیوں کو حقائق بتاتا رہوں گا۔ جو بھی بندوق اٹھائے گا، میں اس کے خلاف ہوں اور مظلوم کے ساتھ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا ہے، جس سے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ دہشت گردوں کو اڑا دو اور ان کی لاشیں جلا دو۔ میں شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہوں، شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پولیس کے نوجوان مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، اس لیے ہم پولیس کی تنخواہ بڑھائیں گے۔ میں اے ٹی ایف، سی ٹی ڈی اور ایس او ڈی کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ شہدا کی گرانٹ میں 100 فیصد اضافہ کریں گے جبکہ سویلین شہدا کی گرانٹ میں 10 لاکھ روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔