بدھ، 24-جون،2026
بدھ 1448/01/09هـ (24-06-2026م)

آئیں میثاق جمہوریت کا حصہ بنیں اور دستخط کریں، خواجہ آصف کی پی ٹی آئی کو دعوت

24 جون, 2026 14:45

وفاقی وزیر دفاع نے مودی اور عمران خان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپوزیشن کو میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت دے دی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہمیشہ عزت و احترام کا رشتہ برقرار رہنا چاہئے اور ایوان کا تقدس یقینی بنانا ہر رکن کی بنیادی ذمے داری ہے۔

انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 1990 کی دہائی میں شدید ترین سیاسی کشیدگی دیکھی تھی، لیکن میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے ملکی مفاد میں اس کشیدگی کو ختم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔

انہوں نے پی ٹی آئی کے دور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقتدار کے زمانے میں اس ایوان میں کیا کیا نہیں ہوا؟ مراد سعید قومی اسمبلی کی ان میزوں کے اوپر دوڑتے پھرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی بجٹ عوام دوست ہے، استحکام کیلئے میثاق معیشت کی پیشکش اب بھی برقرار ہے، عطاء تارڑ

خواجہ آصف نے اپوزیشن کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں آپ بھی اپنے ماضی کو درست کریں اور ہم بھی درست کرتے ہیں، آئیں میثاق جمہوریت کا حصہ بنیں اور اس پر دستخط کریں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی حکومت نے آدھے گھنٹے میں 55 قانون سازیاں کیں اور ایک شخص نے اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر غیر آئینی طور پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہمارا ماضی بھی قابل رشک نہیں لیکن ہم نے ہمیشہ اسے درست کرنے کی کوشش کی ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف خود چل کر اپوزیشن لیڈر اور بیرسٹر گوہر کے پاس گئے۔

انہوں نے کہا کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے، تو آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے، یہ لوگ عمران خان کے ڈر سے ہمارے ساتھ پارلیمنٹ میں ملتے بھی نہیں تھے کہ کہیں ان کا بانی ان سے ناراض نہ ہو جائے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آئین، قانون اور جمہوری روایات کو عمران خان نے جتنا نقصان پہنچایا ہے، تاریخ میں اتنا کسی نے نہیں پہنچایا اور محمود خان اچکزئی ان پی ٹی آئی ارکان کے درمیان بیٹھے ہوئے بہت عجیب لگتے ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔