جمعہ، 10-جولائی،2026
جمعہ 1448/01/25هـ (10-07-2026م)

آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید کا 37 سالہ دورِ قیادت، ایران کا محاصرے سے اسٹریٹجک طاقت تک منتقلی کا سفر

10 جولائی, 2026 10:18

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی 37 سالہ قیادت میں ایران نے شدید ترین اقتصادی پابندیوں اور عالمی محاصرے کے باوجود خود کو ایک پسماندہ ملک سے بدل کر خطے کی عظیم فوجی، سائنسی اور اسٹریٹجک طاقت بنا دیا۔

جب 4 جون 1989 کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت سنبھالی، تو ایران 8 سالہ تباہ کن جنگ، شدید ترین اقتصادی دباؤ اور ایک ایسے عالمی ماحول سے گزر رہا تھا، جس کا مقصد ایران کے عروج کو ہر صورت روکنا تھا۔ تاہم، ان کی سرپرستی میں ایران نے ان تمام پابندیوں اور تنہائی کو خود انحصاری کی تحریک میں بدل دیا۔

ایران نے ایک طاقتور مقامی دفاعی صنعت قائم کی، اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو وسعت دی، اپنے جوہری اور خلائی پروگراموں کو آگے بڑھایا، اور نینو ٹیکنالوجی، بائیوٹیکنالوجی اور علم پر مبنی صنعتوں جیسے سائنسی شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی۔

ان کے دور کے اختتام تک ایران جنگ کے بعد کے محاصرے زدہ ملک سے بدل کر ایک ایسی علاقائی طاقت بن چکا تھا، جس کی عسکری، سائنسی اور تکنیکی کامیابیاں اس کی خودمختاری اور دفاع کا بنیادی حصہ بن چکی تھیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کا آخری باب ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران بند ہوا، جہاں ان کی شہادت اس تصادم کی ایک اور علامت بن گئی، جس نے اسلامی جمہوریہ کی خودمختاری کی جدوجہد کا تعین کیا تھا۔

ان کی شہادت نے 37 سالہ باب کا اختتام کیا، جو پابندیوں، جنگوں اور بار بار کی دھمکیوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک ایسے ریاستی منصوبے کا عروج بھی تھا، جس نے قومی آزادی، سائنسی ترقی اور اسٹریٹجک دفاع کو ایران کے عروج کے مرکز میں رکھا۔

خامنہ ای کے دور کی سب سے بڑی خصوصیت اسٹریٹجک خود انحصاری تھی۔ پابندیوں، فوجی دھمکیوں اور ایران کو تنہا کرنے کی بار بار کی کوششوں کے سامنے تہران نے دباؤ کو حکمتِ عملی میں بدل دیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای مشہد مقدس میں سپردِ خاک

انہوں نے پابندیوں کو غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنے اور ملکی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس نے ترقی کا ایک منفرد ایرانی ماڈل تیار کیا، جو مغربی نظاموں پر انحصار کے بجائے ان شعبوں میں مضبوطی پر مبنی تھا، جہاں قومی سیکیورٹی، سیاسی عزم اور سائنسی عزائم یکجا ہوتے ہیں۔ میزائل، ڈرونز، زمین دوز فوجی انفراسٹرکچر، جوہری ٹیکنالوجی، خلائی سیٹلائٹ اور جدید تحقیقی ادارے اس ماڈل کے ستون بن گئے۔

ایران کا میزائل پروگرام اس تبدیلی کا سب سے واضح اظہار بن گیا۔ قیادت کے ابتدائی سالوں میں تہران اب بھی اپنے دفاعی ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کر رہا تھا اور درآمد شدہ ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا تھا، لیکن بعد کی دہائیوں میں ایران نے اسے ایک مقامی میزائل صنعت میں تبدیل کر دیا، جو رینج، درستگی اور دشمن کو پیچھے دھکیلنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

2003 میں شامل ہونے والا شہاب 3 میزائل اس دور کا بنیادی اسٹریٹجک ہتھیار بنا، جس نے ایران کو مقبوضہ فلسطین تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دی اور علاقائی توازن کو بدل دیا۔

بعد میں اس سلسلے کو قدر اور عماد جیسے بہتر میزائلوں میں تبدیل کیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم پیش رفت ٹھوس ایندھن یعنی سولڈ فیول والے نظاموں کی طرف منتقلی تھی۔

فاتح 110 میزائل نے تیز رفتاری سے فائر ہونے والے درست ہتھیاروں کا دروازہ کھولا، جس کے بعد فاتح 313، ذوالفقار، دزفول اور رعد 500 جیسے جدید اور ہلکے انجن والے میزائل بنائے گئے۔

سجیل پروگرام نے ٹھوس ایندھن کے دو مرحلوں والے میزائل کی شکل میں ایران کی تیاری کے وقت کو مزید کم کر دیا اور اسے دشمن کے پہلے حملے میں تباہ ہونا ناممکن بنا دیا۔

ایران نے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو خرم شہر اور خرم شہر 4 جیسے بھاری اور 2000 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں سے مزید متنوع بنایا۔

یہ بھی پڑھیں : صدی کا سب سے بڑا جنازہ، شہید سید علی خامنہ ای کی الوداعی رسومات قومی یکجہتی کا مظہر بن گئیں

2020 میں شہید جنرل قاسم سلیمانی کے نام پر سجا ‘حاج قاسم’ میزائل متعارف کرایا گیا، جس کی رینج 1400 کلومیٹر تھی۔ 2022 میں ‘خیبر شکن’ سامنے آیا، جو دشمن کے دفاعی نظام کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ 2023 میں ایران نے اپنے پہلے مقامی ہائپر سونک میزائل ‘فتاح’ کی رونمائی کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

13 سے 15 میک کی رفتار اور 1400 کلومیٹر رینج کے ساتھ فتاح میزائل اس بات کا اعلان تھا کہ ایران کی دفاعی صنعت اب امریکہ اور صیہونی ریاست کے فضائی دفاعی ڈھانچے کو براہِ راست چیلنج کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔

ایران نے ان میزائلوں کا صرف مظاہرہ نہیں کیا بلکہ انہیں دہشت گردی کے خلاف اور علاقائی طاقت کے اظہار کے لیے استعمال بھی کیا۔

تہران نے 2017 اور 2018 میں مشرقی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر، عراق میں کرد مخالف گروپوں پر اور سب سے بڑھ کر جنوری 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے جواب میں امریکی فوجی اڈے عین الاسد اور اربیل پر بیلسٹک میزائل داغے۔

عین الاسد پر حملہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی فوج پر کسی بھی ملک کا پہلا براہِ راست میزائل حملہ تھا، جس نے ایران کی آپریشنل صلاحیت کو ثابت کیا۔

یہ سلسلہ 2024 میں مزید بڑھ گیا، جب ایران نے اپریل اور اکتوبر میں اسرائیل پر براہِ راست سیکڑوں میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے کثیر الجہتی فضائی دفاعی نظام کو بے اثر کر کے رکھ دیا۔

2025 تک امریکی انٹیلی جنس نے تسلیم کیا کہ ایران کے پاس خطے میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے، جس کی تعداد 2500 سے 6000 کے درمیان تھی۔

یہ تمام میزائل ایران کے زیرِ زمین بنے محفوظ نیٹ ورک اور ‘میزائل شہروں’ میں رکھے گئے ہیں، جو کسی بھی بڑے حملے سے محفوظ ہیں۔

ڈرون ٹیکنالوجی ایران کے جنگی نیٹ ورک کا دوسرا بڑا ستون بن گئی۔ شاہد 129 ڈرون نے ایران کو بغیر کسی مہنگے انسانی طیارے کے طویل فاصلے تک نگرانی اور حملے کی صلاحیت فراہم کی۔

2011 میں امریکہ کے جاسوس ڈرون آر کیو 170 کو درست حالت میں پکڑنا ایران کے لیے ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوا، جس کی ریورس انجینئرنگ کر کے صاعقہ اور شاہد 191 جیسے اسٹیلتھ ڈرونز بنائے گئے۔

اس کے بعد شاہد 131 اور شاہد 136 جیسے ون وے اٹیک یعنی خودکش ڈرونز نے عالمی سطح پر دھوم مچائی۔ انتہائی کم قیمت، بڑے پیمانے پر پیداوار اور طویل رینج کی وجہ سے ان ڈرونز نے دشمنوں کو مجبور کیا کہ وہ ایران کے سستے ڈرونز کو گرانے کے لیے اپنے کروڑوں ڈالر کے مہنگے میزائل استعمال کریں، جس سے جنگ کا معاشی توازن بدل گیا۔

یہ بھی پڑھیں : شہید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے پیچھے چھپی مذہبی، سیاسی اور نظریاتی اہمیت

علاقائی آپریشنز اور بعد میں یوکرین کے محاصرے میں ان کا استعمال ایران کے دفاعی ماڈل کی کامیابی کی علامت بن گیا۔

سائنسی اور خلائی محاذ پر بھی ایران نے اپنی خودمختاری ثابت کی۔ 2009 میں ایران نے سفیر راکٹ کے ذریعے ‘امید’ سیٹلائٹ خلا میں بھیج کر دنیا کے ان چند مخصوص ممالک میں جگہ بنائی، جو اپنا سیٹلائٹ خود خلا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد سیمرغ جیسے بڑے لانچر نے 2024 میں ایک ساتھ 3 سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا ریکارڈ قائم کیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے قاصد راکٹ کے ذریعے ایران کا پہلا عسکری سیٹلائٹ ‘نور 1’ مدار میں پہنچایا اور 2024 تک قائم 100 راکٹ کی مدد سے ثریا اور چمران 1 جیسے سیٹلائٹس کو مزید اونچے مداروں میں پہنچا کر خلائی نیویگیشن ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کیا۔

جوہری فائل پر بھی ایران نے دباؤ کے باوجود سویلین ایٹمی توانائی کے شعبے میں ترقی جاری رکھی۔ بوشہر 1 ایٹمی پاور پلانٹ 2011 میں قومی گریڈ سے منسلک ہوا اور 2013 میں تجارتی طور پر فعال ہو گیا، جبکہ بوشہر 2 کی تعمیر 2019 میں شروع کی گئی۔

2015 کے جوہری معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ اخراج اور دوبارہ پابندیاں لگانے کے جواب میں ایران نے بتدریج اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنا شروع کیا اور فردو کی تنصیب پر یورینیم کی افزودگی کو پہلے 20 فیصد اور پھر 60 فیصد تک پہنچا دیا، جو کہ عالمی ایجنسی کے مطابق کسی غیر ایٹمی ملک کے پاس اب تک کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، تاہم عالمی ادارے نے ہمیشہ یہ تسلیم کیا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

دفاع سے ہٹ کر آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کے تعلیمی نظام، سائنس پارکس اور نالج بیسڈ یعنی علم پر مبنی کمپنیوں کو فروغ دیا۔

2024 تک ایران میں ایسی کمپنیوں کی تعداد 9 ہزار 500 سے تجاوز کر چکی تھی، جو دواسازی، آئی ٹی اور صنعتی مشینری میں کام کر رہی ہیں۔

عالمی انویشن انڈیکس 2025 میں ایران 70 ویں نمبر پر رہا۔ نینو ٹیکنالوجی میں ایران دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن گیا، جس نے لیبارٹری کی تحقیق کو باقاعدہ صنعتوں اور طبی علاج میں تبدیل کیا۔

بائیوٹیکنالوجی اور اسٹیم سیل ریسرچ میں بھی ایران نے غیر معمولی ترقی کی، جسے آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ قومی وقار اور خودداری کی علامت قرار دیا۔

ان کا کردار صرف ایک مینیجر کا نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی سرپرست کا تھا، جس نے طویل مدتی سرمایہ کاری کو نظریاتی تحفظ فراہم کیا، جس کی بدولت ایران 1989 کے ایک جنگ زدہ محاصرے سے نکل کر 2026 تک ایک ناقابلِ تسخیر تکنیکی اور اسٹریٹجک طاقت بن کر ابھرا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔