اتوار، 28-جون،2026
اتوار 1448/01/13هـ (28-06-2026م)

قاتل اور مقتول ایک ہی ترازو میں، بی بی سی کی متنازع رپورٹنگ پر عوام میں تشویش

عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کی حالیہ رپورٹ میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے نرم الفاظ کا استعمال اور پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جس نے صحافتی اخلاقیات اور غیر جانبداری کے دعوؤں کو بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

عالمی صحافت میں غیر جانبداری اور دیانت داری کو بنیادی اصول مانا جاتا ہے لیکن جب بات پاکستان کی ہو تو اکثر بڑے بین الاقوامی اداروں کا معیار بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ نے اس دہرے معیار کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے، جس سے کئی سنگین اور بنیادی سوالات نے جنم لیا ہے۔

اس رپورٹ کے اندر ایک ایسی تنظیم کو جو عالمی سطح پر مانی ہوئی دہشت گرد تنظیم ہے، بار بار شدت پسند اور عسکریت پسند جیسے نرم الفاظ سے نوازا گیا ہے۔

جب معاملہ دہشت گردی کا ہو تو الفاظ صرف الفاظ نہیں رہتے بلکہ وہ ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیتے ہیں اور یہاں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنے بڑے ادارے کا اس نرم زبان کو استعمال کرنے کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے۔

دہشت گردی کو اس کے اصل نام سے پکارنے میں یہ ہچکچاہٹ ہرگز سمجھ سے باہر ہے کیونکہ اگر یہی حملہ نیویارک، لندن، پیرس یا میڈرڈ میں ہوا ہوتا تو کیا وہاں بھی حملہ آوروں کے لیے یہی نرم زبان اختیار کی جاتی۔

یقیناً وہاں کے لیے سخت ترین الفاظ استعمال کیے جاتے تو پھر پاکستان کے معاملے میں یہ الگ معیار کیوں اپنایا جا رہا ہے اور کیا پاکستانی شہریوں کی جانوں کی حرمت عالمی صحافت کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت نے بی بی سی اردو کی آزاد کشمیر سے متعلق رپورٹ مسترد کردی

اس پوری رپورٹ کا سب سے زیادہ افسوسناک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس میں دہشت گردوں کے لیے مسلسل انہوں نے اور ان جیسے احترام آمیز اسلوب اور الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

دوسری طرف ان سفاک قاتلوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے معصوم شہریوں، بچوں، خواتین، سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موقف کو یا تو بلکل جگہ نہیں دی گئی یا پھر اسے انتہائی محدود حد تک رکھا گیا ہے۔

یہ رویہ کسی بھی طور پر متوازن صحافت نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ ترجیحات کا ایک واضح اور منفی کھیل دکھائی دیتا ہے، جہاں بی بی سی جیسا ادارہ دہشت گرد تنظیم کے لیے نرم الفاظ استعمال کر کے ان کے جرائم پر پردہ ڈالنے اور ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں مصروف نظر آتا ہے۔

صحافت کا اصول غیر جانبداری کی تعلیم ضرور دیتا ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ انسان اخلاقی طور پر اندھا اور بے حس ہو جائے۔

غیر جانبداری کا مطلب یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ آپ قاتل اور مقتول دونوں کو ایک ہی ترازو میں تولنا شروع کر دیں یا دہشت گردی کی بھیانک سفاکی کو خوبصورت اور نرم الفاظ کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کریں اور ایک کالعدم تنظیم کے بیانیے کو اتنی غیر ضروری اہمیت دے دیں کہ اس کے اصل جرائم کی سنگینی ہی دھندلا جائے۔

رپورٹ کے اندر ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کی اندرونی سیاست، ان کی قیادت، آپسی اختلافات اور تنظیمی ڈھانچے پر جتنی غیر معمولی اور تفصیلی گفتگو کی گئی ہے، اس کا عشر عشیر بھی پاکستان کی قربانیوں کو نہیں دیا گیا۔

ان کے سفاکانہ حملوں میں جان ہارنے والے ہزاروں بے گناہ پاکستانی شہریوں، سیکیورٹی فورسز، پولیس، رینجرز اور فوج کے شہداء کی داستانوں اور پاکستان کی 10 ہائیوں پر مشتمل طویل قربانیوں کو وہ اہمیت نہیں دی گئی، جس کی وہ حقدار تھیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پوری رپورٹ دہشت گردی کے متاثرین کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے اس دہشت گرد تنظیم کی اندرونی کہانی کو سنوارنے اور اسے نمایاں کرنے کی ایک کوشش محسوس ہوتی ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اس طویل جنگ میں دنیا میں سب سے زیادہ اور بے مثال قیمت ادا کی ہے، جہاں ہزاروں شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ہماری سیکیورٹی فورسز نے وہ قربانیاں دیں، جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

ریاست پاکستان آج بھی اس ناسور کے خلاف پوری قوت سے برسرپیکار ہے، لیکن ان تمام عظیم قربانیوں کو پس منظر میں دھکیل کر صرف ایک دہشت گرد تنظیم کے اندرونی معاملات کو اچھالنا نہ صرف سچے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے بلکہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے اصل متاثرین اور شہداء کے لہو کے ساتھ بھی ایک کھلی ناانصافی ہے۔

ایک ذمہ دار صحافت کا اصل تقاضا یہی ہوتا ہے کہ دہشت گرد کو بلا خوف و خطر صرف دہشت گرد ہی کہا جائے اور اس کے مظالم کا شکار ہونے والوں کی آواز کو سب سے نمایاں اور مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ دنیا کو اصل حقیقت معلوم ہو سکے۔

رپورٹنگ کے دوران کسی بھی ادارے کو ایسا کوئی تاثر پیدا کرنے سے بچنا چاہیے، جو دہشت گردی کی ہولناکی کو ہلکا دکھائے یا پاکستان کی مسلسل قربانیوں کی توہین کرے کیونکہ یہی پیشہ ورانہ دیانت داری، اخلاقی ذمہ داری اور عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کا واحد اور حقیقی معیار ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔