امریکہ پر اعتماد ختم، مارکو روبیو کی منانے کی کوشش، خلیجی ممالک متبادل کی تلاش میں لگ گئے

خلیج فارس کے عرب ممالک ایران جنگ میں امریکہ کی جانب سے تحفظ نہ کرنے پر امریکہ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں، مارکو روبیو وضاحت کیلئے مشرق وسطیٰ پہنچ گئے۔
دہائیوں سے خلیجی ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر دیکھتے آئے ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا نظریہ ہمیشہ تجارتی رہا ہے، جنہوں نے 2018 میں کھل کر کہا تھا کہ وہ رقم کے بدلے خلیجی بادشاہتوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
سن 2019 میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے بڑے حملوں نے خلیجی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ امریکہ ان کے لیے تہران سے کس حد تک ٹکر لینے کو تیار ہے۔
ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار میں خلیجی ریاستوں نے امریکی معیشت میں کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا عزم کیا، جس کے بعد ٹرمپ نے گزشتہ مئی میں دوحہ کے دورے کے دوران ان کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔
تاہم اس وعدے کا سب سے بڑا امتحان اس سال اس وقت ہوا، جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں خلیج میں ہولناک جوابی حملے ہوئے اور خطے کے ممالک کو امریکی تحفظ کی حقیقت کا اندازہ ہو گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اب خلیجی ریاستوں کو یہ یقین دلانے کے لیے پہنچے ہیں کہ واشنگٹن اپنے وعدوں پر قائم ہے، لیکن خلیجی دارالحکومتوں میں اب یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا ایران کے ساتھ ہونے والا نیا معاہدہ انہیں مزید کمزور کر دے گا۔
یہ بھی پڑھیں : میں نہیں مانتا ایرانی اسکول پر گرنے والا میزائل امریکہ کا تھا، ٹرمپ
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کے نقطہ نظر سے یہ جنگ علاقائی سلامتی کے لیے ایک تباہ کن موڑ ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ خطے سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور معاشی وسائل ایران کی طرف منتقل ہونے سے تہران مزید مضبوط ہوگا۔
اس کے باوجود خلیجی ممالک نے سوئزرلینڈ میں ہونے والی اس ڈیل کی حمایت صرف اس لیے کی ہے کیونکہ وہ جنگ کے مقابلے میں ایک برے معاہدے کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔
یہ نیا امن معاہدہ خلیجی ممالک کے لیے اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ یہ ایران کو عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے تجارتی راستوں کی نگرانی کا باقاعدہ حق دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ خلیج کی تمام توانائی کی برآمدات اب ایران کی نظروں کے سامنے ہوں گی۔
مزید برآں، اس معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور اس کی حامی تنظیموں کے نیٹ ورک کا کوئی حل نہیں نکالا گیا، اور ٹرمپ نے یہ کہہ کر اس مسئلے کو ہلکا کر دیا کہ اگر سعودی عرب کے پاس میزائل ہو سکتے ہیں تو ایران کے پاس کیوں نہیں۔
اس معاہدے میں ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالرز کا فنڈ بھی شامل ہے، جس کے لیے ٹرمپ نے خلیجی ممالک کے پیسے استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، سعودی عرب اور قطر نے ابھی تک اس پر کوئی واضح رضامندی نہیں دی۔
اس صورتحال نے خلیجی رہنماؤں کو اپنی فوجی ضروریات کے لیے ترکی جیسے متبادل ممالک کی طرف دیکھنے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی عدم جارحیت کا معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ اب انہیں یہ یقین ہو چکا ہے کہ امریکہ پر اب طویل مدتی بھروسا بلکل نہیں کیا جا سکتا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












