پیر، 6-جولائی،2026
پیر 1448/01/21هـ (06-07-2026م)

صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں نیٹو اتحاد میں بڑی تبدیلیاں متوقع، امریکی انحصار میں کمی

06 جولائی, 2026 11:10

امریکی صدر کی جانب سے نیٹو کے باہمی دفاع کے عزم پر شکوک و شبہات کے بعد اب بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر یہ رائے قائم ہو رہی ہے کہ یورپ کو اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ نیٹو اتحاد پر تنقید کی ہے اور حال ہی میں ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے یورپی اتحادیوں کے سرد ردِعمل پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ کے بیانات سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ اگر کسی رکن ملک پر حملہ ہوا تو کیا امریکا نیٹو کے آرٹیکل 5 کے تحت اس کی مدد کرے گا یا نہیں۔

اب یہ معاملہ صرف بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یورپ اپنے دفاع کی قیادت خود کرے جبکہ امریکا دنیا کے دیگر حصوں پر توجہ دے۔

واشنگٹن کی جانب سے جرمنی سے 5 ہزار فوجی واپس بلانے اور پولینڈ میں فوجی تعیناتی روکنے کے اعلانات (اگرچہ بعد میں ان میں تبدیلی کی گئی) اس ساختیاتی تبدیلی کا ثبوت ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع نے نیٹو کے لیے فوجی وسائل میں کمی کا اشارہ دیتے ہوئے یورپ میں افواج کا 6 ماہ کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : روس کا نیٹو اجلاس سے قبل یورپ کو تحفہ، یوکرائن پر تباہ کن حملے میں 7 افراد ہلاک

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق، وہ نیٹو کو ایک ایسا متوازن اتحاد بنانا چاہتے ہیں، جہاں یورپ خود آگے بڑھے۔

2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے ہی یورپ نے دفاعی اخراجات بڑھائے تھے، لیکن ٹرمپ کے دباؤ نے اس عمل کو تیز کر دیا ہے۔

پچھلے سال نیٹو اجلاس میں اتفاق کیا گیا تھا کہ 2035 تک دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔

ایک یورپی سفارتکار کے مطابق، اتحاد کے اندر یہ ایک بڑا انقلاب ہے، جو نیٹو کو بنیادی طور پر بدل دے گا۔ جرمنی سمیت روس کے قریبی ممالک نے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

تجزیہ کار کلاڈیا میجر کا کہنا ہے کہ امریکا کا بتدریج پیچھے ہٹنا ناگزیر ہے اور یہ ٹرمپ کے جانے کے بعد بھی جاری رہے گا کیونکہ یہ ایک طویل المدتی تبدیلی ہے۔

تاہم، یورپ کے لیے امریکا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں جیسے فوجی وسائل کا متبادل پیدا کرنے میں وقت لگے گا۔

میڈیا میں جاری اختلافات کے باوجود زمینی حقائق اب تک بہت زیادہ ڈرامائی نہیں ہوئے، کیونکہ امریکا کے 80 ہزار فوجی اب بھی یورپ میں ہیں اور امریکا کا جوہری تحفظ اب بھی یورپ کی سلامتی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔