پاکستان کی عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں بڑی اور تاریخی پیش رفت

پاکستان میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی ترقی کی بدولت ملک نے عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں ایک بڑی پیش رفت حاصل کرلی۔
پاکستان کا بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ یعنی بی پی او شعبہ اس وقت ملک کی تیزی سے ترقی کرنے والی آئی ٹی برآمدی صنعتوں میں شامل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
مالی سال 2025 سے 2026 کے پہلے 11 ماہ کے دوران بی پی او اور کال سینٹرز کی برآمدی آمدنی 300 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی سے مئی کے دوران کال سینٹرز کی برآمدات 269 ملین ڈالر سے بڑھ کر 322 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
کال سینٹر کی برآمدات میں ایک سال کے دوران 19 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ عالمی سطح پر پاکستانی سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ – چین فنڈ کا پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کا فیصلہ
اس شعبے میں ہونے والی اس بڑی تبدیلی کی ایک اہم وجہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی نے کسٹمر سپورٹ آپریشنز کو پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور مؤثر بنا دیا ہے، جس کے باعث پاکستانی سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں عالمی سطح پر دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی بن رہی ہیں۔
یہ جدید ٹیکنالوجی خودکاری، تیز رفتار صارف خدمات اور ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے ذریعے آؤٹ سورسنگ کی پوری صنعت کو بدل رہی ہے۔
اس وقت پاکستان کے تقریباً 90 فیصد کال سینٹرز اور بی پی او کمپنیاں براہِ راست بیرون ملک کے صارفین کو اپنی بہترین خدمات فراہم کر کے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما رہی ہیں۔
اگر حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، پالیسی سپورٹ اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی پر توجہ برقرار رکھی جائے تو یہ شعبہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












