صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے گرین سگنل دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو یمن کے ایران نواز حوثیوں کے خلاف غیر معمولی فوجی کارروائی کی منظوری دے دی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ہولناک حد تک بڑھ گئی۔
امریکی صحافی باراک راوید کی ایک خصوصی مضمون میں دو امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف ایک انتہائی غیر معمولی فوجی کارروائی شروع کرنے کی گرین سگنل دے دیا ہے۔
پیر کے روز صنعا کے ہوائی اڈے پر ہونے والے سعودی فضائی حملوں اور اس کے جواب میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے جوابی میزائل حملوں کو سال 2022 کے بعد سرحد پار کشیدگی کا سب سے سنگین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت دونوں فریقین کے درمیان گزشتہ 4 سال سے جاری غیر سرکاری جنگ بندی کے مکمل خاتمے کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والا یہ فوجی تصادم علاقائی تناؤ کو مزید ہوا دے سکتا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ جنگ کو وسیع کر سکتا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے کارروائی سے قبل صدر ٹرمپ کو مطلع کرنا اور ان کی حمایت مانگنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی عرب کو حوثیوں کے ساتھ ایک بڑی جنگ کا خدشہ ہے، جس کیلئے انہیں امریکہ کی عسکری اور سفارتی مدد کی ضرورت پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمت
اس پسِ پردہ کہانی کی تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے امریکہ کو صورتحال پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا اور حوثیوں کے خلاف ممکنہ فضائی حملوں کیلئے امریکی تعاون کی درخواست کی تھی۔
اس سلسلے میں جمعرات کے روز واشنگٹن میں تعینات سعودی سفیر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی، جبکہ اگلے ہی روز جمعہ کو وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے فون پر رابطہ کیا۔
اس رابطے کے فوراً بعد جمعہ ہی کے دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس کال کے دوران محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے مدد مانگی جو صدر ٹرمپ نے فوری طور پر فراہم کر دی۔
اس معاملے پر جب وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صدر ٹرمپ کے پیر کی صبح فاکس نیوز کو دیے گئے اس انٹرویو کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جبکہ واشنگٹن میں قائم سعودی سفارت خانے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
حالیہ کشیدگی کا آغاز 10 دن قبل اس وقت ہوا، جب ایران کی ماہان ایئر لائن کا ایک طیارہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمنی شہر صنعا میں اترا۔ یہ طیارہ حوثی رہنماؤں کے ایک وفد کو لینے آیا تھا تاکہ وہ تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔
واضح رہے کہ ایران سے صنعا کیلئے پروازوں کا یہ واقعہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد پیش آیا ہے کیونکہ سعودی عرب نے ہتھیاروں اور ایرانی فوجی مشیروں کی حوثیوں تک منتقلی کے خوف سے ان پروازوں پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق ماہان ایئر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی فضائی کمپنی ہے، جو امریکی حکومت کی جانب سے پابندیوں کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، امریکی فضائی دفاعی نظام تباہ
حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی لڑاکا طیاروں نے ایرانی طیارے کو لینڈنگ سے روکنے کی ناکام کوشش کی تھی، جس پر حوثیوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر دوبارہ ایسا کیا گیا تو وہ سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔
پیر کے روز جب یہ ایرانی طیارہ حوثی وفد کو لے کر واپس آ رہا تھا تو سعودی فضائیہ نے صنعا ایئرپورٹ پر بمباری کر دی، جس کے باعث طیارے کو راستہ تبدیل کر کے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع شہر الحدیدہ میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس طیارے میں حوثیوں کیلئے جدید ہتھیار، میزائلوں کے پرزے اور ایرانی فوجی ماہرین موجود تھے۔
اس سعودی حملے کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر ابہا کے ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، اور ساتھ ہی فضائی کمپنیوں کو انتباہ جاری کیا کہ جب تک صنعا ایئرپورٹ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا وہ سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










