’’پاکستان کے نوجوان صرف امید نہیں، بہتر مواقع کے بھی حقدار ہیں‘‘

عالمی یومِ آبادی کے موضوع "نوجوانوں کی امیدوں اور خواہشات کو حقیقت بنانا: آج اور مستقبل کے لیے” کے تحت پاکستان کو اس اہم سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نوجوان نسل کے لیے ایسا مستقبل کیسے یقینی بنایا جائے جو مواقع سے بھرپور ہو اور سماجی و معاشی مشکلات سے محدود نہ ہو۔
پاکستان کو دنیا کی نوجوان آبادی رکھنے والی قوموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لاکھوں پاکستانی نوجوان ڈاکٹر، اساتذہ، انجینئرز، سائنس دان، کاروباری افراد، فنکار اور جدت پسند بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔ ان کے عزائم دنیا کے دیگر ممالک کے نوجوانوں سے مختلف نہیں۔
تاہم ان خوابوں کی تکمیل کا راستہ دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ ملک کے مختلف شعبوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ آبادی کا مسئلہ دراصل اس سوال سے جڑا ہوا ہے کہ کیا پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کے لیے تعلیم، روزگار، صحت اور ترقی کے مناسب مواقع پیدا کر سکتا ہے یا نہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے، جو خطے کی بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔ ملک میں فی خاتون شرحِ پیدائش 3.6 بچوں تک ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تخمینوں کے مطابق پاکستان کو 2040 تک بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 10 کروڑ 40 لاکھ اضافی روزگار کے مواقع اور 1 کروڑ 55 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت ہوگی۔
حکومتی اور ترقیاتی کوششوں کے باوجود 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو 2040 تک تقریباً 57 ہزار مزید پرائمری اسکولوں کی ضرورت پیش آئے گی۔
ایک بڑی نوجوان آبادی پاکستان کے لیے ایک اہم موقع بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی آبادی ملک کی معاشی ترقی کا مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔
اسی لیے نوجوانوں کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے خاندانوں کی فلاح و بہبود کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔
خاندانوں کو بچوں کی پیدائش کے درمیان مناسب وقفے کے حوالے سے باخبر فیصلے کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں، کیونکہ اس سے ماں اور بچے کی صحت بہتر ہوتی ہے، بچوں کی تعلیم اور نگہداشت کے امکانات بڑھتے ہیں اور خاندانوں پر معاشی دباؤ کم ہوتا ہے۔
پاکستان کو تولیدی صحت کے شعبے میں اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تقریباً 18 فیصد جوڑوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات پوری نہ ہونے کا سامنا ہے، جبکہ زچگی اور شیر خوار بچوں کی شرح اموات میں کمی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
اسی تناظر میں پیدائش کے درمیان مناسب وقفے کا تصور اہمیت اختیار کرتا ہے۔ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ نہ صرف ماں کی صحت کے لیے بہتر ہے بلکہ ہر بچے کو بہتر توجہ، نگہداشت، تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے یہ پیغام انتہائی اہم ہے کہ ہر بچے کو زندگی کا مضبوط آغاز ملنا چاہیے اور ہر نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مناسب مواقع دستیاب ہونے چاہئیں۔
جب والدین باخبر فیصلے کرنے کے قابل ہوتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کے مستقبل میں بہتر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اس طرح خاندانوں کی بہتری نوجوانوں کی ترقی اور ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد بنتی ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ آبادی کے چیلنجز کو بہتر منصوبہ بندی، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کے ذریعے حل کرے۔ نوجوان آبادی کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اسے قومی ترقی کے ایک بڑے اثاثے میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عالمی یومِ آبادی کے موقع پر اصل توجہ صرف آبادی کے اعداد و شمار پر نہیں بلکہ ان انسانوں پر ہونی چاہیے جو ملک کا مستقبل ہیں۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس کتنے نوجوان ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا انہیں اپنے خواب پورے کرنے کے لیے ضروری مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اگر نوجوان نسل کو بہتر تعلیم، صحت اور ترقی کے مواقع ملیں تو یہی نسل پاکستان کو زیادہ مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










