جمعہ، 24-جولائی،2026
جمعہ 1448/02/10هـ (24-07-2026م)

پاکستان میں جہاز سازی کی صنعت کی بحالی کا آغاز، کراچی شپ یارڈ کو اہم ذمہ داری مل گئی

16 جولائی, 2026 12:16

وزیراعظم کی خصوصی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان میں جہاز سازی کی صنعت کو جدید ترین بنانے اور اس کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا۔

پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور جہاز سازی کی مقامی صنعت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے انقلابی اقدامات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

ان نئے اقدامات کے تحت کراچی شپ یارڈ کو اب تجارتی یعنی کمرشل جہاز سازی کے شعبے میں مرکزی کردار سونپنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کراچی شپ یارڈ اب پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے لیے جدید تجارتی جہاز تیار کرے گا۔

حکومت کی جانب سے قومی شپ یارڈ کی جدید کاری، مقامی سطح پر کمرشل جہازوں کی تیاری اور ان کی بروقت مرمت کے کاموں کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دنیا کا بڑا کنٹینر بردار جہاز ایم ایس سی اریکا کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہو گیا

اس سلسلے میں عالمی شپ یارڈز کے ساتھ مشترکہ کاروباری منصوبوں پر دستخط کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ دنیا بھر سے جہاز سازی کے نئے آرڈرز پاکستان لائے جا سکیں اور جدید ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکے۔

بحری اصلاحات کے ان منصوبوں میں نیشنل لاجسٹک کارپوریشن سمیت دیگر قومی ادارے بھی انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ملکی جہاز سازی کے تمام تر آرڈرز غیر ملکی کمپنیوں کے بجائے صرف قومی شپ یارڈ کو ہی دیئے جائیں گے تاکہ بیرون ملک انحصار کم کر کے ملکی زرمبادلہ کے قیمتی ذخائر کی بچت کی جا سکے۔

قومی شپ یارڈ کی اس بحالی سے ملکی انجینئرز اور دیگر ہنرمندوں کے لیے روزگار کے ہزاروں نئے اور شاندار مواقع پیدا ہوں گے۔

اس کے علاوہ ملک بھر کی بندرگاہوں پر ہاربر کرافٹس یعنی بندرگاہی کشتیوں کے معیار کو یکساں بنانے کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

یہ اصلاحات ملکی معیشت کی ترقی اور نیلگوں معیشت یعنی بلیو اکانومی کے فروغ میں انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گی اور اس سیکٹر کو ملکی معیشت کا نیا انجن بنایا جائے گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔