امریکہ کے لیے اپنے ہی اتحادی اسرائیل کو قابو کرنا سب سے بڑا چیلنج بن گیا

امریکی حکام نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری نازک مذاکرات کو بچانے کے لیے ایرانی وفد کو ان کے اعلیٰ ترین مذاکرات کاروں پر ممکنہ اسرائیلی قاتلانہ حملوں سے خفیہ طور پر خبردار کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کے لیے اپنے ہی اتحادی اسرائیل کو قابو کرنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے انتہائی حساس مذاکرات اپنے عروج پر تھے، تو امریکی حکام نے ایک ایسا غیر معمولی قدم اٹھایا، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
امریکی حکام نے پسِ پردہ دیگر حکومتوں کے ذریعے ایران کو مطلع کیا کہ اسرائیل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ یہ دونوں اہم ترین رہنما مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این نے بھی دو امریکی حکام کے حوالے سے اس انتباہ کی تصدیق کی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے اس رپورٹ کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
اس خفیہ سفارتی اقدام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ واشنگٹن نے اس سیکیورٹی خطرے کو اتنا حقیقی سمجھا کہ وہ اپنے ہی قریبی اتحادی اسرائیل کو باز رکھنے میں ناکام ہونے کے بعد اپنے کٹر حریف ایران کو بچانے کے لیے میدان میں آگیا۔
اب اس مرحلے پر واشنگٹن کے لیے سب سے مشکل کام ایران کو مذاکرات کی میز پر رکھنا نہیں، بلکہ اپنے ہی سب سے قریبی اور مسلح ترین اتحادی اسرائیل کو اس میز کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے روکنا بن گیا ہے۔
اسرائیلی حملے اس سے قبل بھی خطے میں جاری مذاکرات پر اثرانداز ہوتے ہوتے رہے کیونکہ جنگ کے ابتدائی ایام میں مبینہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی اور سابق وزیر خارجہ کمال خرازی شہید ہو چکے ہیں، جو مذاکرات میں اہم اعتدال پسند کردار مانے جاتے تھے۔
اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی جون 2025 کی 12 روزہ جنگ اور اس سال اسرائیلی قاتلانہ حملوں سے بال بال بچے ہیں۔ سیاسی نظریات کے مطابق ایسے عناصر جو کسی امن عمل کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں، انہیں بگاڑ پیدا کرنے والے یا اسپائلر کہا جاتا ہے، اور یہ عام طور پر اس وقت وار کرتے ہیں، جب مذاکرات کسی بڑی کامیابی یا معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : یورپی یونین کا غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیوں پر غور
امریکہ اور ایران کے درمیان جب عارضی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ طے پانے والا تھا، تو ٹھیک اسی وقت ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات پر سوگ منایا جا رہا تھا۔
اس علامتی اور حساس ترین موقع پر اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جس کے بعد خطرات اتنے بڑھ گئے کہ وہ اپنے والد کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکے۔
امریکہ کے لیے اسرائیل کو قابو کرنا سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہے کیونکہ اسرائیل کو امریکی اندرونی سیاست میں گہرا اثر حاصل ہے اور وہ امریکہ کی مالی اور عسکری امداد پر انحصار کے باوجود واشنگٹن کی مرضی کے خلاف فیصلے کرتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹ وائی نیٹ کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اپنے ہی انٹیلی جنس اداروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ جنگ کی کامیابیوں کی مبالغہ آمیز رپورٹس تیار کریں تاکہ جاری مذاکرات کو روکا جا سکے کیونکہ اسرائیل اس معاہدے کو اپنے لیے ایک بڑی ناکامی سمجھتا ہے۔
اس الجھی ہوئی صورتحال میں جب امریکی وزراء نے اس امن معاہدے پر تنقید کی تو امریکی نائب صدر جے ڈی ونس نے کھلے عام تشویش کا اظہار کیا۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس تناؤ کو ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے 3 جولائی کو ہونے والی فون کال میں جلد امریکہ میں ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔
اس خطرناک مرحلے پر مذاکرات کو بچانے کے لیے پاکستان اور قطر نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ جب ایران کو اسلام آباد کے سفر کے دوران اپنے وفد پر حملے کا خطرہ تھا، تو پاکستان اور قطر نے حفاظتی ضمانت فراہم کی۔
پاکستان کے جنگی طیاروں نے ایرانی وفد کے جہاز کو اپنے حصار میں لے کر فضائی سفر مکمل کروایا اور بعد میں وفد نے زمینی راستے سے 8 گھنٹے کا سفر طے کر کے اپنی جان بچائی اور دوحہ اور سوئزرلینڈ میں مذاکرات جاری رکھے۔
اگرچہ 7 جولائی کو امریکی حملے دوبارہ شروع ہوئے اور ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں، لیکن اب تک کی کامیابی یہ ہے کہ سفارتی چینل کھلا رہا اور مذاکرات کار محفوظ رہے، جو کہ دشمن کو قابو کر کے نہیں بلکہ اپنے دوست کو سنبھال کر حاصل کی گئی ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












