راتوں کو جاگنے والوں کیلئے خطرے کی گھنٹی!!! یہ عادت کن خطرناک بیماریوں کو دعوت دے رہی ہے؟

Late Nights Raise Serious Health Risks
رات دیر تک جاگنے اور دیر سے سونے کی عادت صرف نیند کے معمول کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کا تعلق میٹابولک صحت سے بھی ہو سکتا ہے۔
ایک نئی طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ رات گئے تک جاگنے والی خواتین میں جسمانی چربی، وزن، بلڈ شوگر اور خون میں چکنائی سے متعلق مسائل کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔ نیند کا وقت اور روزمرہ کا معمول صحت مند طرز زندگی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج طبی جریدے فرنٹیئر میں شائع ہوئے۔ اس تحقیق میں 18 سے 45 سال کی ڈھائی سو سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا۔ محققین نے شرکا کے سونے اور جاگنے کے اوقات کے ساتھ ان کے جسمانی وزن، غذائی عادات، جسمانی سرگرمی اور خون کے مختلف ٹیسٹوں کا جائزہ لیا۔ مقصد یہ جاننا تھا کہ نیند کے معمول میں فرق میٹابولک صحت اور جسمانی وزن پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیق میں شامل خواتین کو ان کے جسمانی وزن اور صحت کی صورتحال کے مطابق مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ میں صحت مند وزن رکھنے والی خواتین شامل تھیں، جبکہ دوسرے گروپ میں وہ خواتین تھیں جنہیں موٹاپے یا زیادہ وزن کا سامنا تھا۔ محققین نے ان کے خون کے نمونے بھی لیے تاکہ بلڈ شوگر اور خون میں موجود چکنائی کی سطح کا جائزہ لیا جا سکے۔
شرکا کی غذائی عادات جاننے کے لیے پانچ دن تک ان کے کھانے پینے کی تفصیلات بھی جمع کی گئیں۔ اس کے علاوہ خواتین کو کلائی پر پہننے والے خصوصی ٹریکرز دیے گئے۔ ان آلات کی مدد سے محققین نے ان کی نیند، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ کے معمولات کا مشاہدہ کیا۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر خواتین کو جلد جاگنے والی، رات دیر تک جاگنے والی اور درمیانی معمول رکھنے والی گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق نصف سے زائد خواتین ایسے گروپ میں شامل تھیں جو نہ بہت جلد جاگتی تھیں اور نہ ہی رات دیر تک جاگنے کی عادی تھیں۔ اس کے بعد محققین نے مختلف گروپس کے درمیان جسمانی اور میٹابولک صحت کا موازنہ کیا۔ نتائج میں سامنے آیا کہ رات دیر تک جاگنے والی خواتین میں جسمانی وزن اور پیٹ کے گرد جمع ہونے والی چربی کی مقدار نسبتاً زیادہ تھی۔
محققین نے یہ بھی بتایا کہ دیر سے جاگنے والی خواتین میں بلڈ شوگر اور خون میں چکنائی کی سطح سے متعلق مسائل زیادہ دیکھے گئے۔ تاہم تحقیق میں کچھ ایسے نتائج بھی سامنے آئے جن میں جلد جاگنے والی خواتین میں کولیسٹرول کی سطح زیادہ پائی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند کے معمول اور میٹابولک صحت کے درمیان تعلق پیچیدہ ہو سکتا ہے اور صرف سونے کے وقت کو ہی صحت کے تمام مسائل کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تحقیق میں غذائی عادات بھی خاص طور پر اہم رہیں۔ ماہرین کے مطابق رات دیر تک جاگنے والی خواتین میں کاربوہائیڈریٹس کے زیادہ استعمال کا رجحان دیکھا گیا۔ اس کے ساتھ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال نسبتاً کم جبکہ چکنائی والی غذاؤں کا استعمال زیادہ تھا۔ ایسی غذائی عادات وقت کے ساتھ وزن میں اضافے اور میٹابولک مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
محققین نے رات دیر تک جاگنے اور انسولین کی سطح میں اضافے کے درمیان بھی تعلق کی نشاندہی کی۔ انسولین جسم میں بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے اہم ہارمون ہے۔ اس نظام میں خرابی ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح جسم میں اضافی چربی، خاص طور پر پیٹ کے گرد چربی، بھی میٹابولک صحت کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق نیند کے معمول کو بہتر بنانا صحت مند طرز زندگی کا اہم حصہ ہے۔ رات کو مناسب وقت پر سونا، متوازن غذا لینا، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھانا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنانا مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیق میں سامنے آنے والے تعلقات کو براہ راست وجہ اور اثر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نیند کے اوقات، خوراک اور میٹابولک بیماریوں کے درمیان تعلق کو مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












