بھارت میں طلباء کے احتجاج میں شدت، کاکروچ جنتا پارٹی کا وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ

بھارت میں مودی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں اور پیپر لیک اسکینڈل کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں طلباء اور سماجی کارکنوں کا پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ پولیس تشدد کے بعد شدید رخ اختیار کر گیا۔
بھارت میں نریندر مودی کے نظام حکومت کے خلاف نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں طلباء، ان کے والدین، سیاسی اور سماجی کارکنوں کا احتجاج انتہائی شدید رخ اختیار کر گیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کے لیے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے بھارتی پارلیمنٹ کی جانب رخ کیا۔
اس پرامن مارچ کو روکنے کے لیے بھارتی پولیس نے بدترین غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلباء پر شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی اور بے دردی سے لاٹھی چارج کیا، تاہم مظاہرین کو روکنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ بھارت کو اسٹریٹجک شراکت دار نہیں بلکہ معاشی حریف دیکھ رہا ہے، بھارتی جریدہ
یہ احتجاج معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل اور جبری گرفتار کیے جانے کے بعد شروع ہوا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے پولیس کارروائی کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی وردی میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے سونم وانگچک کو حراست میں لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی اس قابلِ مذمت کارروائی کے بعد اب تعلیمی اصلاحات اور وزیر تعلیم کے ساتھ ساتھ نااہل وزیراعظم مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق میڈیکل کے داخلہ امتحان میں بڑے پیمانے پر پیپر لیک کے باعث تقریباً 22 لاکھ 80 ہزار طلباء شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس اسکینڈل اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے 20 سے زائد طلباء خودکشی جیسے دلخراش قدم اٹھا چکے ہیں۔
تعلیمی نظام کی اس نااہلی، پیپر لیک اسکینڈل اور نوبلوغ طلباء کی خودکشیوں نے مودی حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں اور نوجوان نسل کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












