جمعرات، 23-جولائی،2026
جمعرات 1448/02/09هـ (23-07-2026م)

ہارٹ اٹیک سے بچنا ہے تو یہ غلطی فوراً چھوڑ دیں، تحقیق میں بڑا انکشاف

21 جولائی, 2026 11:45

دنیا بھر میں دل کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ماہرین صحت کے مطابق خوراک کا انتخاب اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 ایک نئی طبی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں، ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج نے روزمرہ خوراک میں ایسی اشیا کے استعمال پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل تک خون پہنچانے والی شریان میں خون کا بہاؤ بہت کم ہوجائے یا مکمل طور پر رک جائے۔ عام طور پر شریانوں میں چکنائی اور کولیسٹرول جمع ہونے سے پلاک بنتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہی پلاک خون کے لوتھڑے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور دل کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن نہیں مل پاتی۔

امریکن جرنل آف پریونٹیو میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں الٹرا پراسیس غذاؤں اور امراض قلب کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے 2019 کے دوران کینیڈا میں سامنے آنے والے امراض قلب کے ہزاروں کیسز کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ اس دوران یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ہارٹ اٹیک، فالج اور دیگر قلبی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے میں خوراک کا کتنا کردار ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذائیں امراض قلب کے تقریباً 23 سے 38 فیصد کیسز میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ان میں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے سنگین مسائل بھی شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر ان غذاؤں کے استعمال میں 20 سے 50 فیصد تک کمی لائی جائے تو ہر سال دل کی بیماریوں کے بڑی تعداد میں کیسز کو روکا جاسکتا ہے۔

الٹرا پراسیس غذائیں وہ اشیا ہیں جو تیار ہونے کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہیں۔ ان میں اکثر نمک، چینی، غیر ضروری چکنائی اور مختلف مصنوعی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس فائبر اور دیگر مفید غذائی اجزا نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ایسی غذاؤں کو محدود کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

عام طور پر الٹرا پراسیس غذاؤں میں فاسٹ فوڈ، ڈبل روٹی، کیک، مٹھائیاں، ٹافیاں، نمکین اسنیکس، بعض ناشتے کے سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا شامل کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی اشیا روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، جس کے باعث ان کا زیادہ استعمال صحت کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان غذاؤں میں موجود زیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے۔ مسلسل ہائی بلڈ پریشر خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور وقت کے ساتھ دل کے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح زیادہ چینی، کیلوریز، غیر صحت بخش چکنائی اور ٹرانس فیٹ وزن میں اضافے اور دیگر طبی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال صرف دل کی بیماریوں تک محدود نہیں۔ ماضی کی مختلف تحقیقات میں ایسی غذاؤں کو موٹاپے، ذیابیطس اور بعض دیگر دائمی بیماریوں کے خطرے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ تاہم ہر فرد کی صحت اور غذائی ضروریات مختلف ہوسکتی ہیں، اس لیے خوراک میں بڑی تبدیلی سے پہلے ماہر غذائیت یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

محققین نے زور دیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال میں کمی لانے کے لیے انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو تازہ پھل، سبزیاں، دالیں، مکمل اناج اور کم پراسیس شدہ غذاؤں کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ متوازن غذا کے ساتھ باقاعدہ جسمانی سرگرمی بھی دل کی صحت بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ روزمرہ خوراک کا انتخاب صحت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگرچہ کبھی کبھار ایسی غذاؤں کا استعمال عام طور پر تشویش کا باعث نہیں سمجھا جاتا، لیکن مسلسل اور زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس اشیا کھانے سے صحت کے مختلف مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے دل کی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے خوراک میں توازن اور غیر صحت بخش پراسیس غذاؤں کا محدود استعمال اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔