نیند کی گولیوں کا ممکنہ متبادل؟ سائنسدانوں نے دریافت کر لیا قدرتی مالیکیول

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی خرابی کے مسائل سے دوچار ہیں، تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق نے مستقبل میں نیند کے علاج کے لیے امید کی نئی کرن پیدا کر دی ہے۔
چین کے سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مستقبل میں نئی ادویات کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ سگنل فراہم کرتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔ یہ تحقیق چینی اکیڈمی آف سائنسز سمیت دیگر اداروں کے ماہرین نے کی، جو معروف سائنسی جریدے نیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی۔
دماغ میں نیند کی قدرتی طلب کیسے پیدا ہوتی ہے؟
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کے لیے مناسب نیند انتہائی ضروری ہے۔ نیند کے دوران دماغ یادداشت کو بہتر بناتا ہے، معلومات کو منظم کرتا ہے اور جسم میں جمع ہونے والے غیر ضروری مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے۔
تاہم بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی میں خرابی کے باعث دنیا بھر میں بڑی تعداد میں افراد مناسب نیند حاصل نہیں کر پاتے۔
تحقیق میں سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسرز کے ذریعے جانوروں کے دماغی مائع (Cerebrospinal Fluid) میں ٹرپٹامین کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔
زیادہ دیر جاگنے سے ٹرپٹامین کی مقدار بڑھتی ہے
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جانور جتنی دیر تک جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی بڑھتی گئی۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ مالیکیول جسم کے اندر بڑھنے والے سلیپ پریشر (Sleep Pressure) یعنی نیند کی قدرتی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کا تعلق صرف دن اور رات کے وقت سے نہیں بلکہ جاگنے کے دورانیے اور جسمانی سرگرمی سے بھی ہوتا ہے۔
نیند کو فعال کرنے والے دماغی نظام کا انکشاف
مزید تحقیق میں معلوم ہوا کہ جاگنے کے دوران فعال رہنے والے مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد میں GPR139 ریسیپٹر سے جڑ جاتا ہے۔
یہ عمل دماغ کے ہائپوتھیلامک پری آپٹک ایریا میں موجود ان اعصابی خلیوں کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نئی ادویات کی تیاری کی امید
تحقیق کے اگلے مرحلے میں سائنسدانوں نے ایسے تجرباتی مرکبات استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو فعال کرتے ہیں۔ نتائج میں سامنے آیا کہ ان مرکبات کے استعمال سے نیند کا دورانیہ بڑھا اور نیند کے معیار میں بھی بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں یہی نتائج انسانوں پر بھی ثابت ہو جاتے ہیں تو بے خوابی کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکتی ہیں جو موجودہ نیند کی گولیوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔
تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت نیند کے قدرتی نظام کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے اور مستقبل میں نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایک نئے راستے کا باعث بن سکتی ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












