جمعہ، 24-جولائی،2026
جمعہ 1448/02/10هـ (24-07-2026م)

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا بڑھتا رجحان، وجوہات، فوائد اور درپیش چیلنجز

24 جولائی, 2026 11:18

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملک میں فاسٹ چارجنگ انفراسٹرکچر کی عدم دستیابی ایک نیا بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔

پاکستان کے گاڑیوں کے شعبے یعنی آٹو سیکٹر میں اس وقت ایک انتہائی نمایاں اور عمیق تبدیلی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ روایتی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافے کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کے ماہانہ اخراجات میں بھاری اضافے نے عوام کو ایک متبادل راستے کی طرف موڑ دیا ہے۔

اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں کراچی کی بندرگاہ پر ایک ہی بحری جہاز کے ذریعے تقریباً 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں پاکستان پہنچائی گئی ہیں، جسے تجزیہ کار ملکی آٹو مارکیٹ کی تاریخ میں ایک نیا موڑ قرار دے رہے ہیں۔

اس اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی درآمد سے جہاں ایک طرف خریداروں اور ڈیلرز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، وہی تجزیاتی نقطہ نظر سے چند سنگین سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا موجودہ بنیادی ڈھانچہ، بجلی کا نظام اور چارجنگ سہولیات اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

اس وقت کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے اور گنجان شہروں میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

خریدار مہنگے ایندھن کے ماہانہ اخراجات سے تنگ آ کر اب ان گاڑیوں کو پہلی ترجیح دے رہے ہیں۔ مارکیٹ کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، شہر کے اندر روزمرہ استعمال کے لیے چھوٹی چینی اور مقامی اسمبل شدہ گاڑیوں کی قیمت 40 لاکھ سے 65 لاکھ روپے تک ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پہنچ گئیں

جبکہ درمیانے سائز کی سیڈان اور ایس یو ویز، جو ایک بار چارج ہونے پر 300 سے 400 کلومیٹر کا سفر کرتی ہیں، 85 لاکھ سے ایک کروڑ 30 لاکھ روپے میں دستیاب ہیں۔ دوسری جانب پریمیئم اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں 2 کروڑ سے 4 کروڑ روپے سے بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔

آٹو سیکٹر کے ماہر محمد فواد علی خان کے مطابق پورٹ پر 2 ہزار گاڑیوں کی آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں ای وی کا رجحان اب محض ایک مفروضہ نہیں رہا بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔

تاہم، ان کا تجزیہ ہے کہ صرف گاڑیاں منگوا لینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر چارجنگ سٹیشنز اور پرانی بیٹریوں کو تلف یا ری سائیکل کرنے سے متعلق جامع پالیسی نہ بنائی تو یہ ابھرتا ہوا رجحان جلد ہی جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔

ملک کو اس وقت عام آدمی کے لیے سستی اور مقامی سطح پر تیار شدہ گاڑیوں کی ضرورت ہے، جس کے لیے ٹیکسوں میں کمی کرنا ہوگی۔

گاڑیوں کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ خریداروں کی دلچسپی میں بہت اضافہ ہوا ہے اور لوگ اب حساب کتاب لگا رہے ہیں کہ پیٹرول کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر کتنی بچت ہوتی ہے۔ لیکن ڈیلرز بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ گاڑیوں کی بیٹریوں اور سپیئر پارٹس کی کمی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جب تک مقامی مارکیٹ میں ورکشاپس اور ماہر ٹیکنیشنز دستیاب نہیں ہوں گے، عام صارف کے لیے پریشانی قائم رہے گی۔

الیکٹرک گاڑی استعمال کرنے والے صارفین کے تجارب بھی دو مختلف پہلو سامنے لاتے ہیں۔ کراچی کے رہائشی جو صرف شہر میں سفر کرتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ جہاں پیٹرول کا خرچ 60 سے 70 ہزار روپے تھا، وہیں اب گھر کی چارجنگ سے بجلی کا بل صرف 12 سے 15 ہزار روپے اضافی آتا ہے۔

اس کے برعکس، شہروں کے درمیان طویل سفر کرنے والے مالکان کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر چارجنگ سٹیشنز کی شدید کمی ہے اور جہاں ہیں وہاں بھی چارجنگ کے لیے 45 منٹ سے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے سفر کا وقت بڑھ جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل روشن ہے لیکن اس راہ میں فاسٹ چارجنگ نیٹ ورک کی کمی، بجلی کے بحران، لوڈ شیڈنگ، بجلی کے تیز تر ہوتے نرخ اور گاڑیوں کی زیادہ ابتدائی قیمت جیسے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔

8 سے 10 سال بعد مہنگی بیٹری کی تبدیلی بھی ایک بڑا مالی بوجھ بنے گی۔ اگر حکومت اپنی پالیسی پر سختی سے عمل کرے اور مقامی اسمبلنگ کو فروغ دے تو پاکستان ایندھن کی مد میں اربوں ڈالر کا زر مبادلہ بچا سکتا ہے، تاہم اسے عام آدمی کی پہلی پسند بنانے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کو ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔