امریکی فوج نے اپنے ذخائر بچانے کیلئے ایرانی ڈرونز اور میزائل کو روکنا چھوڑ دیا، رپورٹ

امریکی دفاعی ہتھیاروں اور میزائلوں کی شدید قلت کے باعث پینٹاگون کے کمانڈروں نے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کے بجائے اڈوں سے ٹکرانے کی پالیسی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے این بی سی نیوز نے دو سینیئر امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج کے پاس دفاعی میزائلوں کے ذخائر انتہائی کم ہو چکے ہیں، جس کے باعث کمانڈر کچھ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو ہوا میں تباہ نہ کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
یہ حکمتِ عملی ان پروجیکٹائلز کے لیے اپنائی جا رہی ہے، جو اپنے اصل راستے سے ہٹے ہوئے ہوں اور جن کے بارے میں یہ اندازہ ہو کہ وہ امریکی اہلکاروں کو براہِ راست نشانہ نہیں بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے باعث ایئر ڈیفنس سسٹمز پر شدید دباؤ، امریکی فوج نے نئے انٹرسیپٹرز خریدنے کا آرڈر دے دیا
اس حکمتِ عملی کا مقصد پینٹاگون کے پاس موجود دفاعی گولا بارود کو زیادہ سے زیادہ وقت تک محفوظ رکھنا ہے، جس کی قیمت بعض اوقات امریکی اڈوں پر ایرانی حملے برداشت کر کے چکائی جا رہی ہے۔
اس سے قبل سی بی ایس نیوز نے بھی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز اور گائیڈڈ ہتھیاروں کے تیزی سے ختم ہونے کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کے اندر شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔
حکام نے اعتراف کیا کہ امریکہ اس تیز رفتار آپریشن کو طویل عرصے تک جاری نہیں رکھ سکتا کیونکہ امریکی دفاعی صنعت کے پاس ان ہتھیاروں کو فوراً دوبارہ تیار کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔
یہ انکشافات امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے پچھلے مہینے کے ان داوؤں کو مسترد کر دیتے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس ہتھیاروں کی کوئی کمی نہیں اور دفاعی ذخائر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق پینٹاگون کے پاس میزائلوں کے ذخائر پر بڑھتا ہوا یہ غیر معمولی دباؤ ہی ممکنہ طور پر وہ وجہ ہے، جس کی بنا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر گزشتہ روز فضائی حملے اچانک روکنے کا حکم دیا-
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










