جمعرات، 30-جولائی،2026
جمعرات 1448/02/16هـ (30-07-2026م)

معمولی کام پر سانس پھولنا کس خطرے کی علامت ہے؟ جانیے

30 جولائی, 2026 13:53

روزمرہ کے معمولات میں تھوڑا چلنے، تیز قدموں سے پیدل جانے، سیڑھیاں چڑھنے یا معمولی جسمانی محنت کے دوران سانس پھولنا اب صرف بڑی عمر کے افراد تک محدود نہیں رہا۔ نوجوانوں میں بھی یہ شکایت عام ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق کبھی کبھار جسمانی مشقت کے بعد سانس تیز ہونا معمول کی بات ہوسکتی ہے، لیکن اگر معمولی کام کے دوران بار بار سانس پھولے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سانس پھولنے کی کئی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔ موجودہ طرز زندگی میں جسمانی سرگرمی کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی فٹنس متاثر ہو رہی ہے۔ کئی افراد زیادہ وقت موبائل فون، کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم کی برداشت کم ہوسکتی ہے اور معمولی سرگرمی بھی مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔

تاہم ہر بار سانس پھولنے کی وجہ صرف کم فٹنس نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ بعض اوقات دل یا پھیپھڑوں سے متعلق بیماری کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح خون کی کمی، دمہ، الرجی، نزلہ، کھانسی اور پھیپھڑوں کے بعض مسائل بھی سانس لینے میں دشواری پیدا کرسکتے ہیں۔ طویل عرصے تک سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں بھی اس شکایت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

جسم کے مختلف حصوں پر سوجن کے ساتھ سانس پھولنا بھی توجہ طلب علامت ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹانگوں یا پیروں میں غیر معمولی سوجن بعض صورتوں میں گردوں یا دل سے متعلق مسئلے کی طرف اشارہ کرسکتی ہے۔ اسی طرح چہرے یا آنکھوں کے گرد سوجن بھی کسی طبی مسئلے کی علامت ہوسکتی ہے۔ ایسی علامات کو صرف تھکن سمجھ کر چھوڑ دینا مناسب نہیں۔

کچھ افراد کو کھانے کے بعد بھی سینے میں بھاری پن یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ معدے کی تیزابیت، گیس اور بہت زیادہ کھانا بعض لوگوں میں ایسی کیفیت پیدا کرسکتا ہے۔ کھانے کے فوراً بعد لیٹنے یا مسلسل بیٹھے رہنے کے بجائے ہلکی چہل قدمی معمول کا حصہ بنانا مجموعی صحت کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق متوازن غذا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کے لیے اہم ہیں۔ روزانہ مناسب واک یا دوسری محفوظ ورزش جسمانی فٹنس بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی بیماری ہے یا ورزش کے دوران سانس بہت زیادہ پھولتا ہے تو ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

انجیر اور دیگر روایتی نسخوں کے بارے میں اہم بات

بعض روایتی طریقہ علاج میں ہاضمہ بہتر رکھنے کے لیے خشک انجیر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح تلسی کے پتے یا تخمِ ریحان کا قہوہ بھی بعض لوگ استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ان چیزوں کو سانس پھولنے کا باقاعدہ علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے بارے میں مضبوط سائنسی شواہد محدود ہیں اور کسی بھی مسلسل طبی علامت کی صورت میں ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔

اگر سانس پھولنے کی شکایت بار بار ہو رہی ہو تو اس کی وجہ جاننے کے لیے طبی معائنہ کرانا چاہیے۔ خاص طور پر اگر سانس کی تنگی کے ساتھ سینے میں درد، چکر، شدید کمزوری، ہونٹوں یا چہرے پر نیلاہٹ، بے ہوشی یا جسم پر غیر معمولی سوجن بھی ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ بروقت تشخیص سے مسئلے کی اصل وجہ معلوم کرنے اور مناسب علاج شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔