امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ مؤخر کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور دیگر علاقائی ممالک کی درخواست پر انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات پر متوقع فوجی حملے فی الحال مؤخر کر دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج دوسری جنگ عظیم کے بعد کے شدید ترین ملٹری پاور کے ساتھ حملے کے لیے تیار تھیں، لیکن ایران اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک نے حملہ فی الحال روکنے کی درخواست کی ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ خطے کے ممالک نے آگاہ کیا ہے کہ ایک معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور تمام تر رکاوٹوں کے بغیر کھولنا اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے خطرے کو ختم کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے تیار ہیں، ایرانی وزیر خارجہ کی ترک اور سعودی ہم منصب سے گفتگو
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے دنیا کے فائدے اور ایران کی بقا کے لیے اس شرط پر حملہ منسوخ کیا ہے کہ یہ معاہدہ فوری طور پر طے پائے گا۔ اس فیصلے میں اسرائیل بھی ان کے ساتھ شامل ہے۔
یہ اعلان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں امریکہ کی جانب سے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر شدید بمباری کا پلان بنایا جا رہا تھا۔
اس منصوبے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کر کے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دیا تھا، جس کے بعد واشنگٹن نے حملے کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








