اتوار، 2-اگست،2026
اتوار 1448/02/19هـ (02-08-2026م)

امریکی فوج تجارتی جہازوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے، ایران

02 اگست, 2026 12:41

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو ملٹری مقصد کیلئے استعمال کرنے اور بحری دھوکہ دہی کا الزام لگایا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ پر شدید الزامات عائد کیے ہیں کہ واشنگٹن نے گزشتہ 15 ماہ کے دوران آبنائے ہرمز میں دھوکہ دہی پر مبنی بحری آپریشنز انجام دیے ہیں اور سمندری معاہدوں کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔

تہران کے مطابق 26 جون سے 8 جولائی کے درمیان امریکی جنگی جہازوں کو تیل اور مائع گیس لے جانے والے بڑے تجارتی جہازوں کے ساتھ سفر کرتے دیکھا گیا ہے۔

امریکی فوج نے فوجی اہلکاروں اور ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے تجارتی جہازوں کا استعمال کیا اور ان کے ٹریکنگ ڈیوائسز بند رکھ کر انہیں غیر مجاز جنوبی راستوں سے گزارا تاکہ ایرانی مسلح افواج کی نظروں سے بچا جا سکے۔

8 جولائی کو امریکی سنٹرل کمانڈ کے ایک جنگی جہاز کو مائع گیس سے بھرے ایک دیوہیکل جہاز کے پیچھے چھپ کر گزرتے دیکھا گیا، جو کہ تجارتی بحری رانی کی حفاظت کے خلاف انتہائی خطرناک مہم جوئی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے 3 بحری جہازوں کو پہنچنے والے نقصان پر امریکہ کے ردعمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واشنگٹن کی پہلے سے تیار کردہ دشمنی کا عکاس ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی ناکامی پر غفلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے، ایرانی وزیر دفاع نے اپنے سائنسدانوں کو خبردار کردیا

امریکہ نے ایسے جہازوں کے نقصان کو بنیاد بنا کر ظالمانہ اقدام کیے جن کا نہ تو امریکہ سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی ان پر ایرانی حملے کا کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔

امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کی مفاہمت کو ختم کرنے، ایرانی تیل کی فروخت کا لائسنس منسوخ کرنے اور بحری ناکہ بندی کی واپسی کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکی حکمران طبقہ معاہدوں کی خلاف ورزی اور تنازعات کو بڑھانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی یہ کارروائیاں عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ اور صریح جارحیت ہیں، لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے کوئی موثر اقدام نہیں کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ پچھلے 2 سال سے اسرائیلی قبضے کی نوآبادیاتی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ایرانی اور علاقائی مسلم عوام کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ پہلے ایرانی ایٹمی بم روکنے کا پرانا جھوٹ اور پھر اسرائیل کے دفاع میں پیشگی کارروائی جیسے مضحکہ خیز بہانے گھڑے گئے۔

تہران کے مطابق امریکی و اسرائیلی جارحیت کی اصل وجہ صرف یہ ہے کہ ایرانی قوم اپنی آزادی، خودمختاری اور امریکی دباؤ کے سامنے ڈٹ جانے پر قائم ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ کا یہ رویہ 75 سالہ دشمنی کا تسلسل ہے، جو 1953 کے فوجی انقلاب سے شروع ہوا تھا۔

ایران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ بحری ناکہ بندی، معاشی دباؤ اور حملوں کے باوجود دفاعی جوابی کارروائیاں مکمل صلاحیت کے ساتھ جاری رہیں گی اور خطے کی حکومتوں کا بھی مذہبی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیلی رژیم کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ کرنے دیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔