مسلح مزاحمت میں تیزی، افغانستان طالبان کے ہاتھوں سے نکلنے لگا ہے، امریکی تھنک ٹینک

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق افغانستان کے صوبے بدخشان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کے تابڑ توڑ حملوں نے طالبان کے مکمل کنٹرول کے دعوؤں کو رد کر دیا۔
افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں کے برعکس اندرونی مسلح مزاحمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک لانگ وار جرنل نے افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کی حالیہ کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران صوبہ بدخشان میں مزاحمتی گروہوں نے طالبان کی پیش قدمی کو سخت چیلنج کیا ہے۔
17 جولائی کو طالبان مخالف مسلح گروپ سپاہیان میہن نے ضلع یفتل سفلی کے مرکز پر حملہ کیا اور کئی گھنٹوں تک اس ضلعی مرکز پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں : دنیا بھر سے واپس آنے والے افغان مہاجرین طالبان حکومت میں روزگار اور طبی سہولیات سے محروم
اس کے علاوہ 23 جولائی کو افغان فریڈم فرنٹ نے بدخشان کے ضلع زیبک میں طالبان کے مختلف یونٹس کے خلاف متعدد ہدفی کارروائیاں انجام دیں۔
افغان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے لانگ وار جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی تنظیم اب گوریلا جنگ کی حکمت عملی چھوڑ کر طالبان کے خلاف براہ راست جنگ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 23 جولائی کو ہی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے ضلع کران ومنجان میں طالبان کی ایک اہم چوکی کو نشانہ بنایا، جس میں ایک طالبان جنگجو ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔
افغان صحافی ابومسلم شیرزاد کا کہنا ہے کہ صوبہ بدخشان میں طالبان اور ان کے حامیوں کے لیے اپنی حکمرانی اور گرفت کو قائم رکھنا اب آسان نہیں رہا۔
ان مسلسل جھڑپوں نے طالبان حکومت کی جانب سے پورے افغانستان پر مکمل کنٹرول کے کیے جانے والے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












