پیر، 3-اگست،2026
پیر 1448/02/20هـ (03-08-2026م)

ایران عام ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے امریکی فوجیوں کی لوکیشن ٹریس کرنے لگا

03 اگست, 2026 11:09

ایران نے کمرشل ایڈورٹائزنگ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا پوسٹس کا استعمال کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کی لوکیشن معلوم کرنے اور ان پر نشانہ بنانے کا طریقہ کار اپنا لیا۔

رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس ادارے تجارتی اشتہارات کے لیے استعمال ہونے والی عام ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا کر مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجیوں کی لوکیشن کا پتہ لگا رہے ہیں اور ان پر ڈائریکٹ حملے کر رہے ہیں۔

یہ طریقہ کار اشتہاری کمپنیوں کے جی پی ایس ڈیٹا پر چلتا ہے، جسے اوپن مارکیٹ میں بغیر کسی پابندی کے خریدا اور بیچا جاتا ہے۔

یہ نگرانی محض ایک موبائل ڈیوائس تک محدود نہیں ہوتی بلکہ صارف کے اکاؤنٹ سے جڑی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے فون تبدیل کرنے پر بھی ایرانی ادارے لوکیشن کا پتہ چلاتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد پر آپس میں تقسیم، ٹرمپ بے چینی کا شکار

اس کے علاوہ ایرانی ایجنسیاں امریکی اہلکاروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جانے والی تصویروں اور ویڈیوز سے بھی اہم معلومات اکٹھی کر رہی ہیں، جن سے امریکی اڈوں کے نقشے اور نقل و حرکت کا پتہ چلتا ہے۔

امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے فوجیوں کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ایران کو امریکی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے اثرات اور ان کی لوکیشن معلوم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

انہوں نے مثال دی کہ 17 جولائی کو اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے وقت ایک امریکی فوجی نے میٹا کے اسمارٹ گلاسز سے ویڈیو بنا کر انسٹاگرام پر ڈالی، جس میں واضح طور پر بیس کا راستہ اور بنکرز دکھائی دے رہے تھے۔

اردن میں موجود کچھ امریکی اہلکاروں کو جلد ہی اپنے موبائل فون جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تاہم فون ضبط کرنے کی خبروں نے امریکی فوجیوں کے خاندانوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر مسلسل اور مہلک حملوں کے بعد شدید خوف کا شکار ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔